Sunday, 31 December, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بغداد کے قریبی علاقے میں ایک چھاپے کے دوران کم از کم 20 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔یہ گرفتاریاں گزشتہ روز کی تشدد کے بعد عمل میں آئیں ہیں۔
گزشتہ روز متعدد علاقوں میں ہونے وال حملوں میں چھ امریکی فوجی سمیت ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ فلوجہ میں امریکی اہلکاروں کی نگرانی میں عراقی فوج نےمارا تھا۔ اس دوران کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والےشدت پسندوں میں سے کم ازکم 15 افراد ایک گارڑی پر بم حملہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے کے چند گھنٹوں میں عراق کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم ستر عراقی شہری اور چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
بغداد کے ایک شیعہ اکثریتی علاقے ہریہ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں چالیس افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جب کہ عراق کے جنوبی شہر کوفہ کے ایک بازار میں کار بم دھماکے میں اکتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق دھماکے سے تھوڑی دیر قبل دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے اترنے والے ایک شخص کو مشتعل لوگوں نے ہلاک کر دیا تھا۔
درین اثناء عراق میں امریکی فوجی حکام نے6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد دسمبر سن دو ہزار چھ گزشتہ دو سالوں میں امریکی فوج کو ہونے والے جانی نقصان کے اعتبار سے سب سے بدترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔
عراق میں موجود امریکی فوج کے مطابق انہوں نے بغداد کے جنوب مغرب میں واقع تھر تھر کے علاقے میں چار مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند مسلح تھے اور انہوں نے جس عمارت پر حملہ کر کے ان شدت پسندوں کو ہلاک کیا وہاں سے ان کو بڑی تعداد میں اسلحہ بھی ملا ہے۔
فوج نے بتایا ہے کہ ان کا ایک فوجی بغداد کے مغرب میں واقع صوبہ انبار میں لڑتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔