Thursday, 28 December, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
نعیمہ احمد مہچور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
صومالیہ میں انیس سو اکیانوے میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک وہاں کوئی حکومت اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکی جبکہ مختلف قبائلی سردار اپنے علاقوں کے حاکم بن بیٹھے ہیں۔
ملک میں افراتفری اور جرائم خاص طور سے چوری اور ڈاکہ زنی کے واقعات بڑھے تو مقامی تاجر اپنے علاقوں میں اسلامی عدالتیں قائم کر کے مجرموں کو شریعت کے تحت سزایں دینے لگے۔
سزاؤں کے اس عمل سے سے جرائم میں کمی آئی اور ان عدالتوں نے ایک مشترکہ اتحاد قائم کر کے اسکا نام المحاکم الاسلامیہ رکھا جس میں صومالیہ کی مسلح تنظیمیں بھی شامل ہوگئی اور یہ اتحاد عوام میں بہت مقبول ہوگیا۔
تنظیم کو اس وقت کون چلا رہا ہے
اصل میں تنظیم دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ پہلا دھڑ سلفیہ ہے جو ریڈیکل رہنما شیخ حسن دہیر اویس کی قیادت میں ہے اور دوسرا قطبیہ ہے جسکے سربراہ اعتدال پسند رہنما شیخ شریف احمد ہیں۔
سلفیہ اور قطبیہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں کوئی بھی حکومت امن امان لانے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا اب یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔ ریڈکل رہنما صومالیہ میں غیر ملکی اثر رسوخ کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور شیخ اویس نے فلموں موسیقی اور عشقیہ نغمے گانے پر پابندی عائد کردی ہے۔
شیخ اویس امریکہ کی اس فہرست میں شامل ہیں جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے شیخ اویس نے اس الزام کو رد کر دیا ہے ۔خیال ہے کہ اس تنظیم کو سعودی اور خلیجی ریاستوں سے امداد حاصل ہورہی ہے۔
افریقی اور دوسرے ممالک کے صومالیہ کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں
صومالیہ کا ہمسایہ ملک اتھوپیا اور امریکہ المحاکم الاسلامیہ کو پسند نہیں کرتے ۔ اقوام متحدہ صومالیہ کی عبوری حکومت کو تسلیم کرتی ہے جو امن مذاکرات کے بعد سن دو ہزار چار میں قائم کی گئی تھی حالانکہ اتھوپیا کی حالیہ مداخلت سے پہلے تک اسکا معمولی کنٹرول صرف بودوا تک محدود تھا۔
اتھوپیا کا مخالف ملک اریٹریہ محاکمل اسلامیہ کی حمایت کرتا ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ اس اسلامی تنظیم کو اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جب حال ہی میں امن فوج بھیجنے کی قرار داد پاس کی تو اسکی نہ صرف المحاکم الاسلامیہ نے مذمت کی بلکہ اسکے پڑوسی ملکوں نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی۔
اتھیوپیا اور صومالیہ کے درمیان کشیدگی کیسے ہوئی تھی
اتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان اوگادن خطے پر انیس سو چونسٹھ اور ستتر میں دو جنگیں ہوئیں ہیں جن کے بعد میں سن اٹھاسی میں امن معاہدہ ہوا مگر سن اکیانوے میں صومالیہ میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جسکے چند سال بعد اتھوپیا کی فوج نے لق میں اسلامی جنگجوں سے نبرد آزما ہوکر ان کو شکست دے دی۔
دو ہزار چار میں اتھوپیا کے حامی رہنما عبداللہ یوسف نے صومالیہ میں عبوری حکومت سنبھالی مگر جب رواں سال میں اسلامی تنظیم دارالحکومت موگادیشو پر اپنا کنٹرول قائم کیا تو اتھیوپیا کی فوج ملک میں داخل ہو گئی۔