http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 28 December, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST

اسرائیل پر غیر متوقع امریکی تنقید

امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے غربِ اردن میں نئی یہودی بستی بنانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے اس غیر متوقع بیان میں کہا گیا ہے کہ غربِ اردن میں نئی یہودی بستی بنا کر اسرائیل امن کے ’نقشۂ راہ‘ نامی منصوبے کی خلاف ورزی کرے گا۔

اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ وادیِ اردن میں تیس نئے گھر تعمیر کرے گی جو غزہ کی پٹی کے سابق رہائشیوں کو دیئے جائیں گے۔ یہ اعلان دو ہزار تین کے ’نقشۂ راہ‘ امن منصوبے کی اس شرائط کے خلاف ہے کہ اسرائیل متنازعہ علاقوں میں یہودیوں کی ہر طرح کی آباد کاری کو مکمل طور پر بند کرے گا۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان گونزو گیلیگس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر منظورِ نطر روڈ میپ امن منصوبے کی شرائط پر عمل پیرا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ’ نئی بستی بسانا یا پرانی بستیوں میں توسیع کرنا ’نقشۂ راہ‘ کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی حکومت اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ’روڈ میپ‘ کی شرائط کا پابند رہے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینیوں کے ساتھ حتمی مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں‘۔

اس سے قبل یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے اس منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ادھر فلسطینی انتظامیہ نے بھی اسرائیل کی طرف سے نئی بستی بنانے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور اس فیصلے کو امن کی راہ میں روڑے اٹکانے کے مترداف قرار دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وادیِ اردن کے شمال میں سابق فوجی چھاؤنی پر ’مسکیوت‘ نامی نئی بستی کی تعمیر کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں کر دیا جائے گا۔

آبادکاری پر نظر رکھنے والے ایک اسرائیلی ادارے ’پیس‘ کا دعویٰ ہے کہ انیس سو بانوے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی حکومت نے پرانی بستیوں کو وسیع کرنے کی بجائے ایک نئی بستی بنانے کی منظوری دی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت غربِ اردن کی تمام یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس قانون کو مسترد کرتا ہے۔ غربِ اردن سمیت مشرقی یروشلم میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ یہودی آباد ہیں۔