Monday, 25 December, 2006, 16:48 GMT 21:48 PST
اسرائیلی وزیر دفاع امیر پریٹز نے غرب اردن کے علاقے میں سڑکوں پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں فلسطینیوں کی سہولت کے لیے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے پیر کو خارجہ اور دفاعی امور کی پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ چار سو میں سے انسٹھ مقامات پر لگی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔ اس حوالے سے لائحہ عمل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں چوبیس اور پھر پینتیس مقامات پر سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی۔
تاہم امیر پریٹز نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کب ہو گا۔
ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ غرب اردن پر قائم کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے روزگار کے متلاشی فلسطینی اسرائیل نہیں جا پاتے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ عیدالضحیٰ کے موقع پر کچھ فلسطینی قیدیوں کو رہا بھی کیا جائے گا۔
فلسطین میں جاری سیاسی کشمکش میں اسرائیل نے حماس کے مقابلے میں صدر محمود عباس کی حمایت کرنے کا عہد کیا ہے۔
اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی سے حاصل کردہ ٹیکس میں سے ضبط کیے گئے چھ سو ملین ڈالر میں سے ایک سو ملین ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرت اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے فلسطین میں حماس کی حکومت بننے کے بعد سے امن مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کیا ہوا تھا۔
حماس کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مسئلے پر اختلافات کے بعد پچھلے ہفتے صدر محمود عباس نے فلسطین میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔