Sunday, 24 December, 2006, 15:44 GMT 20:44 PST
ایتھوپیا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فوجی صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں جنہوں نے ملک کے بڑے حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ایتھوپیا کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انتہا پسند تنظیم اسلامک کورٹس یونین یا یو آئی سی کے خلاف اپنی حفاظت کے لیے ان کی فوج نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل ایتھوپیا نے کہا تھا کہ اس نے صومالیہ میں صرف فوجی ٹرینرز بھیجے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوبارہ آغاز کے پانچویں دن ایتھوپیا کے فوجی سرحد کے قریب بلیڈویانے نامی قصبے پر یو آئی سی کے اراکین پر بمباری کر رہے ہیں۔
شیخ حسن ڈیرو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اللہ کے دشمن ان کے شہریوں پر بم برسا رہے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ایک شخص نے بتایا کہ وہ اپنے سروں پر بم برساتے جہازوں کو دیکھ رہے ہیں اور میدان میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔
![]() | |
| یو آئی سی کے رہنما شیخ شریف (فائل فوٹو) |
اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں اور عبوری حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ امن مزاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ سلامتی کونسل نے صومالیہ کی عبوری حکومت اور اور اسلامی شدت پسندوں پر زور دیا کہ وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔
ریڈ کراس کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل ایتھوپیا نے کبھی بھی اس بات کا اقرار نہیں کیا ہے کہ اس نے اپنی فوج ایتھوپیا بھیجی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق اس وقت صومالیہ میں ایتھوپیا کے آٹھ ہزار فوجی موجود ہیں جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مخالف ملک اریتریئن اسلامی گروہ کی مدد کے لیے دو ہزار فوجی بھیجے گا۔ تاہم اریتریئن کے صدر نے صومالیہ میں فوج بھیجنے کی تردید کی ہے۔