Sunday, 24 December, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ایران کے خلاف متفقہ قرار داد کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کاغذ کا ایک پرزہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی دنیا کو ’جوہری ایران‘ کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔
ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرار داد کے ذریعے ایران کو ڈرایا جا رہا ہے۔
دریں اثناء ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ نوتیز میں اپنے جوہری پلانٹ پر تین ہزار سینٹری فیوجز کی تنصیب کا کام اتوار سے شروع کر دے گا۔
جوہری معاملات پر ایران کے مذاکراتِ اعلی علی لاریجانی نے ایک ایرانی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سینٹری فیوجز کو لگانے کا کام اتوار سے شروع کر دیا جائے گا۔
یورینیم کی افزودگی میں سینٹرفوجز استعمال کیئے جاتے ہیں اور یورینیم کی افزودگی ہی ایران پر اقوام متحدہ کی طرف پابندیاں عائد کیئے جانے کا اہم محرک بنی ہے۔
مغربی ممالک کا الزام ہے کہ یورینیم کی افزودگی سے ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیئے جوہری توانائی کے استعمال کے لیے یہ صلاحیت حاصل کرنا کے لیے کوشاں ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے تحت ایران جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق ساز و سامان کی درآمد نہیں کر سکتا اور بیرونی ممالک میں ایران کے کچھ اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔
امریکہ نے ان پابندیوں کا ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جانی چاہیں۔