Sunday, 24 December, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ نے کہا ہے کہ انہیں نازیوں کے ہاتھوں لاکھوں یہودیوں کی نسل کشی یا ہولوکاسٹ پر اپنے خیالات پر ندامت کے اظہار کی مزید ضرورت نہیں ہے۔
تین سال سے قید مسٹر ارونگ پروبیشن پر رہائی کے بعد حال ہی میں برطانیہ آئے ہیں۔ انہیں تین سال کی سزا 1989 میں آسٹریا میں اپنی ایک تقریر میں ہولو کاسٹ سے انکار پر دی گئی تھی۔
بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ندامت کا اظہار نہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آمری قانون‘ نے انہیں’غلط خیالات‘ کے اظہار کی وجہ سے جیل میں بند کیا۔
ان کا کہنا تھا’400 دن جیل میں گزارنے کے بعد یہی بات پتہ چلتی ہے کہ آپ کو ندامت کے کسی احساس کا حق نہیں ہے۔ آسٹریا کا قانونی نظام انوکھا ہے اور اس میں انگریزی نظامِ قانون کی طرح کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں آپ کو ندامت کے اظہار، گناہ کا اقرار اور اپنا جرم قبول ہی کرنا ہے بصورتِ دیگر ہر چیز تین گنا ہو جائے گی‘۔
مسٹر ارونگ کی سزا پر پوری دنیا میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ سزا کے حمایتوں کا کہنا تھا کہ سزا کا فیصلہ درست جبکہ مخالفین کا مؤقف تھا کہ یہ آزادی اظہار کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔
جمعہ کو لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آسٹریا اور جرمنی میں ان سے انتہائی ’ذلت آمیز سلوک‘ کیا گیا۔
17 سال قبل انہوں نے آسٹریا میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ آشوچ میں گیس چیمبرز نہیں تھے۔ تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی تھی۔
![]() | |
| ارونگ آسٹریا میں اپنے خلاف مقدمے کے دوران (فائل فوٹو) |
ارونگ کو گزشتہ سال نومبر میں جنوبی آسٹریا سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ دائیں بازو کے طالبِ علموں کے ایک گروہ کو لیکچر دینے جا رہے تھے۔
پروبیشن پر ان کی رہائی پر یہودی گروہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ورلڈ جیوئس کانگریس کے نائب صدر لارڈ جینر کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ مسٹر ارونگ کو اس لیے جیل میں بند کیا گیا کہ وہ ایک تاریخ دان ہیں اور تمام تاریخ دانوں سے کسی بھی دوسرے عام فرد کی طرح کا سلوک کرنا چاہیے۔
ارونگ کا کہنا تھا تھا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور وہ آسٹریا کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ انہیں خاموش رہنے کو کہے تاکہ باقی دنیا تک ان کی بات نہ پہنچ سکے۔