http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 23 December, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST

ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

ایران کے خلاف پابندیوں کا فیصلہ یورینیم کی افزروگی کو روکنے سے انکار کی بنا پر کیا گیا ہے۔

پابندیوں پر عالمی ردعمل

سلامتی کونسل کے تمام پندرہ اراکین نے پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا۔

ان پابندیوں کے تحت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک ایران کو کچھ ایسا سامان، ٹیکنالوجی یا مواد فراہم نہیں کر سکے گا جو کہ ایران کے جوہری اور بلیسٹک میزائل پروگرام میں مددگار ثابت ہو سکے۔

پابندیوں کی قرارداد میں ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی فوری طور پر بند کر دے۔

اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پابندیوں کی قرارداد کے مسودے میں روس کی جانب سے مخصوص ایرنی باشندوں اور تنظیموں کے بیرونِ ملک اثاثے منجمد کرنے کی شق کی مخالفت کے بعد تبدیلی کی۔

قرار داد کے پیش کیے جانے سے قبل امریکہ کے صدر اور ان کے روسی ہم منصب کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت بھی ہوئی۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے قائم مقام سفیر کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد ایران کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ اگر اس نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے سے تعاون نہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

الیزاندرو ولف کا کہنا تھا کہ’ آج ہم نے ایران کو ان چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جن پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں عائد ہیں اور اگر ایران نے مثبت اقدامات نہ کیے تو ہم سلامتی کونسل سے دوبارہ رجوع کرنے میں بالکل نہیں جھجھکیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول ایران کو مزید غیر محفوظ کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو متاثر نہیں کر سکتا بلکہ اس سے ایک ایسے ادارے کے فیصلوں کا نام بدنام ہوگا جس کی طاقت میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔

چند مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاتے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اسے جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ سے بی بی سی کے نامہ نگار اینڈی گلیچر کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کے لیے ان پابندیوں پر روس کو متفق کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

چین اور روس کے ایران کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات ہیں۔ روس ایران میں جوہری توانائی سٹیشن کی تعمیر کر رہا ہے جبکہ چین ایران سے تیل درآمد کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

ادھر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک پابندیوں کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک سے اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔