Saturday, 23 December, 2006, 11:17 GMT 16:17 PST
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صومالیہ میں اسلامی انتہا پسندوں اور عبوری حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن مزاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔
سلامتی کونسل نے صومالیہ کی عبوری حکومت اور اور اسلامی شدت پسندوں پر زور دیا ہے کہ وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔
دونوں گروپوں میں حکومت کے زیر اثر علاقے باوڈا کے علاقے کے قریب پچھلے چار روز سے جھڑپیں جاری ہیں۔رفاہی ادارے ریڈ کراس کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سلسلے صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل نے بین الاقوامی قوتوں سے ایتھوپیا کے خلاف مدد کی اپیل کی ہے جس کے بارے میں کونسل کا کہنا ہے کہ وہ باوڈا میں اس کی فوجوں سے لڑائی میں مصروف ہے۔
صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل کے سربراہ شیخ حسن داہر اویس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایتھوپیا کی دخل اندازی کو روکنے میں ان کی مدد کریں۔
ایتھوپیا نے، جس نے کبھی بھی اس بات کا اقرار نہیں کیا کہ اس نے اپنی فوجیں باوڈا میں بھیجی ہیں، اسلامک کورٹس کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو اس علاقے میں مزاحمت سے روکیں۔