Saturday, 23 December, 2006, 19:04 GMT 00:04 PST
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے یروشلم اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے یروشلم میں ملاقات کی ہے۔
دو گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ ملاقات ایہود اولمرت کی رہائش گاہ پر ہوئی۔
دونوں رہنما اس سے قبل جون میں غیر رسمی طور پر مل چکے ہیں تاہم یہ ڈیڑھ برس کے عرصے میں پہلا موقع ہے کہ کسی فلسطینی اور اسرائیلی رہنما کے درمیان باقاعدہ بات چیت ہوئی ہے۔
یہ ملاقات جولائی میں فلسطینی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک اسرائیلی فوجی کے اغوا کے بعد غزہ میں جاری جھڑپوں کے حالیہ خاتمے کے بعد ہوئی ہے۔
ملاقات کے بعد کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گیا تاہم اندازہ ہے کہ اس ملاقات میں فلسطینیوں پر عائد سفری پابندیوں میں نرمی اور مغربی کنارے کے علاقے سے حفاظتی چوکیوں کے خاتمے پر بات چیت ہوئی۔
فلسطینی حکام اسرائیلی جیلوں میں قید فسلطینیوں کی رہائی بھی چاہتے ہیں۔ تاہم اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اس معاملے پر اس وقت تک بات نہیں کرے گا جب تک مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا نہیں کیا جاتا۔
محمود عباس اور اولمرت دونوں نے حال ہی میں اس عزم کو دہرایا کہ تھا وہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں تاہم فریقین نے ساتھ ہی اس سلسلے میں فوری بہتری کے کسی امکان کو رد کر دیا تھا۔
اسرائیل یہ کہتا آیا ہے کہ وہ حماس کی حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا کیونکہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔
فلسطینی صدر محمود عباس کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ حماس کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے۔انہوں نےگزشتہ ہفتے ہی قبل از وقت انتخابات کا عندیہ بھی دیا تھا جسے حماس نے بغاوت کا نام دے کر رد کردیا تھا۔
اس وجہ سے ہی فلسطین میں حماس اور الفتح کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا جانے لگا تھا کہ کہیں فلسطین میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطٰی امن مذاکرات کا احیاء دونوں رہنماؤں کے لیئے فائدہ مند ہے کیونکہ جہاں محمود عباس کو حماس کی مخالفت کی وجہ سے عوامی مقبولیت میں کمی کا سامنا ہے وہیں لبنان کے خلاف جنگ کو سنبھالنے میں ناکامی پر اسرائیلی عوام بھی اولمرت سے زیادہ خوش نہیں۔