Thursday, 21 December, 2006, 07:32 GMT 12:32 PST
امریکی فوجی عراق کے شہر حدیثہ میں نہتے شہریوں کے قتل کے الزام میں ملوث امریکی فوجیوں پر فردِ جرم عائد کرنے والی ہے۔
نومبر دو ہزار پانچ میں پیش آنے والے اس واقعے میں مبینہ فوجیوں کے ہاتھوں عورتوں اور بچوں سمیت چوبیس شہری مارے گئے تھے۔
ابتدائی طور پر امریکی فوج نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری حدیثہ میں فوجی قافلے پر بم حملے کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے لیکن بعد میں ملنے والی خبروں سے پتہ چلا کہ امریکی فوجیوں نے ان شہریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی جنگی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے کی۔ تاہم ابھی تک یہ واضع نہیں ہو سکا کہ فردِ جرم قتل کے الزام کے تحت عائد کی جائے گی یا نہیں۔
دفاعی وکلاء کے مطابق ملزم فوجیوں کے قافلے پر انیس نومبر دو ہزار پانچ کو سڑک کے کنارے رکھے گئے بم کے ذریعے حملہ کیا گیا اور بعد میں قافلے پر بھاری فائرنگ ہونے لگی جس سے قافلے میں شامل ایک امریکی فوجی مارا گیا جبکہ دو فوجی زخمی ہوئے۔
واقعے کے بعد اس مقام سے ایک کار میں سوار پانچ مردوں کی نعشیں ملیں جو کہ غیر مسلح تھے جبکہ بچوں اور عورتوں کی نعشیں قریبی گھروں سے برآمد ہوئیں۔
اس وقت امریکی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ چند شہری سڑک کے کنارے پھٹنے والے بم کے دھماکے سے ہلاک ہوئے اور باقی مزاحمت کاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی گولیوں کے علاوہ کہیں سے بھی گولی چلنے کی آواز نہیں آئیں۔
عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی نے اس واقعے کو سنگین جرم قرار دیا تھا۔ امریکی فوج نے واقعے کی تحقیقات تین ماہ بعد اس وقت شروع کیں جب مقامی انسانی حقوق کے ایک کارکن کی بنائی ہوئی ویڈیو منظرِعام پر آ گئی۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آج یعنی جمعرات کو امریکی فوج کی طرف سے مشتبہ فوجیوں پر باقاعدہ طور پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔