Tuesday, 19 December, 2006, 09:32 GMT 14:32 PST
پہلی مرتبہ امریکہ اور شمالی کوریا پیانگ یانگ حکومت کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات شمالی کوریا کے جوہری معاملات پر ہونے والی چھ فریقی بات چیت کے موقع پر ہو رہی ہے۔
اس قبل چھ فریقی بات چیت کے بارے میں امریکہ کے مذاکرات اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پہلے دن کی بات چیت سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔
اس بات کا اشارہ امریکہ کے مذاکرات اعلیٰ کرسٹوفر ہل نے دوسرے دن مذاکرات شروع ہونے سے قبل دیا۔ بیجنگ میں شمالی کوریا کے جوہری معاملات پر چھ فریقی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مذاکرات میں چین، جاپان، روس، امریکہ اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔
شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک جوہری پروگرام کی بندش کی تجویز پر غور نہیں کرے گا جب تک کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھا نہیں لی جاتیں۔
مسٹر ہل کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ پہلے دن کی بات چیت میں کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے کہ جس کے بارے میں میں اطمینان کا اظہار کر سکوں‘۔
![]() | |
| امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی نہیں کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہے (فائل فوٹو) |
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے نو اکتوبر کو شمالی کوریا کی جانب سے جوہری آلات کے تجربات کرنے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ واشنگٹن کی جانب سے بھی گزشتہ سال شمالی کوریا پر مبینہ منی لانڈرنگ اور امریکی ڈالر کی جلعل سازی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔
امریکہ کے نائب سیکریٹری آف سٹیٹ کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جیسے کمزور ملک نے ابھی تک کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور اگر یہ بات چیت ناکام ہوگئی تو اسے بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کسی معاہدے پر پہنچنا چاہیے کیونکہ شمالی کوریا کو علم ہے کہ ملک میں سکول، صحت کے ادارے ، سڑکیں اور ہوائی اڈے کتنے ضروری ہیں۔ اسے بہت سے چیزوں کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں چاہیں نہ کہ جوہری ہتھیار۔
شمالی کوریا کے سفیر کم کی گوان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو بھی امریکی ہی کی طرح جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل ہے اور اس کے جوہری پروگرام کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اس وقت بات چیت ہتھیاروں کی تخفیف پر ہونی چاہیے۔
جوہری معاملات پر مذاکرات |
ستمبر 2005 میں اس واقعے سے کوئی دو ماہ قبل شمالی کوریا نے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی اور امداد دیئے جانے کی یقین دہانی کے بعد اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم واشنگٹن کا موقف تھا کہ وہ شمالی کوریا کو بطور ایک جوہری ریاست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات بڑی امید افزا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے تاہم ان سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کے بارے میں شبہات ہیں۔