Monday, 18 December, 2006, 08:18 GMT 13:18 PST
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کی از سر نو بحالی کے سلسلے میں اس وقت اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
توقع ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے حکام سے بات چیت کریں گے۔
توقع ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے حکام سے بات چیت کریں گے۔
عزہ میں الفتح پارٹی اور حماس کے کارکنوں کے درمیان اتوار کو دن بھر تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے نئے انتخابات کے اعلان کے بعد سے علاقے میں پرتشدد واقعات میں اتوار کو دو افراد ہلاک ہو گئے۔
بلیئر عراق کے دورے کے بعد اب اسرائیل پہنچے ہیں۔ عراق میں انہوں نے برطانوی فوجی دستوں سے خطاب کے دوران کہا کہ خطے میں آباد اعتدال پسند قوتوں کی خاطر برطانوی فوج کااس لڑائی میں موجود رہنا ضروری ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے جمعہ کو مشرق وسطیٰ کے دورے کا آغاز ترکی اور مصر سے کیا تھا۔
مصر کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کن گھڑی آ گئی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کا حل اشد ضروری ہے۔
![]() | |
| غزہ میں اتوار کو الفتح پارٹی اور حماس کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں (فائل فوٹو) |
اتوار کو بغداد میں عراقی وزیراعظم نور المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلیئر کا کہنا تھا کہ برطانیہ عراق کی دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اس کا ساتھ دے گا۔ بعد ازاں انہوں نے بصرہ میں برطانوی فوجی دستوں سے ملاقات کی۔ 2003 میں عراق پر اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے بلیئر ہر سال کرسمس سے قبل خطے میں موجود برطانوی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔