http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 16 December, 2006, 02:20 GMT 07:20 PST

کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات

حماس اور فتح میں کئی دنوں کی کشیدگی کے بعد ایسا لگتا ہے سفارتی طور پر ثالثی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔

الفتح پر قاتلانہ حملے کا الزام

حماس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں گروہوں نے مصری اہلکاروں سے بات کی ہے۔

اس سے قبل حماس اور فتح دونوں نے ایک دوسرے پر جان لیوا حملوں کے الزام لگائے تھے۔

دریں اثناء غزہ اور غرب اردن میں حماس اور فتح کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپیں حماس کے فتح پر اس الزام کے بعد ہوئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ فتح کے ایک اہم اہلکار نے اسماعیل ھنیہ پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔

حماس کا فتح پر الزام

غرب اردن میں ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ادھر کم سے کم 32 زخمی آئے ہیں۔ غزہ سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

غزہ میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا ان پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کس نے قافلے پر حملہ کیا تھا تاہم انہوں نے کسی فرد یا گروہ کا نام لینے سے گریز کیا۔

حماس کے رہنما نے حماس کی انیسویں برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد اور امن کی اپیل کی تھی۔

جمعرات کو وزیر اعظم پر ہونے والے حملے میں ان کے محافظ مارے گئے تھے اور ان کے بیٹے سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔