Saturday, 16 December, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST
فلسطینی صدر محمود عباس نے سرکاری ٹی وی پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے بہت جلد صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا عندیہ دیا ہے۔
رملہ سے کیے گئے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا ’میں نے قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ انتخابات کب کرانا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر کے لیے انتخابات کی بات کرنا آسان اور انہیں کرانا انتہائی مشکل ہوگا۔ فلسطین میں اکثریت کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس حکومت برخاست کرنے کا کوئی اختیار نہیں، لیکن محمود عباس کا اصرار ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
حماس نے ان کے اس بیان پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کو اس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے سے تعبیر کیا ہے۔ فلسطین کی موجودہ پارلیمان سال دو ہزار دس تک کے لیے اس سال جنوری میں منتخب ہوئی تھی۔
اپنے خطاب کے دوران صدر محمود عباس نے خبردار کیا کہ اگر فلسطین کی موجودہ اندرونی کشیدگی کا فوری طور پر سیاسی حل نہ نکالا گیا تو یہ حالات فلسطین کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی حل کے بغیر سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے حماس پر الزامات لگائے کہ حماس کی حکومت نہ تو فلسطینیوں کے اندرونی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے اور نہ ہی اس حکومت نے مغربی ممالک کی طرف سے براہِ راست امداد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
فلسطین کے سینئر مشیر صائب اراکات نے بھی فلسطینی صدر کی تائید کرتے ہوئے کہا ’اگر صدر کو انتخابات یا گولیوں میں سے کوئی ایک چیز چننے کو کہا جائے تو وہ انتخابات چنیں گے۔ اس وقت خانہ جنگی سے بچنے کا واحد حل انتخابات ہیں‘۔
حماس اور فتح کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب جمعرات کو وزیرِ اعظم اسماعیل حانیہ کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد حماس نے الزام لگایا کہ اس فائرنگ کے پیچھے صدر محمود عباس کی فتح تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں کا ہاتھ تھا۔
اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور غزہ میں مصر کے سفارتکار دونوں گروہوں کی طرف سے الزام تراشی اور حملوں کے سلسلے کو روکنے میں کوشاں ہیں۔