Thursday, 14 December, 2006, 02:24 GMT 07:24 PST
دو افریقی ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مردوں میں ختنوں کی وجہ ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی کے پھیلنے کی شرح میں پچاس فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج اتنے واضح تھے کے امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے فیصلے کیا کہ اس کے لیے کیے جانے والے ٹرائلز یا تجربوں کو روک دینا چاہیئے۔
یہ تحقیق جنوبی افریقہ میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کی حمایت کرتی ہے کہ ختنوں سے ایڈز کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک بڑی دریافت ہے لیکن پھر بھی انفیکشن سے بچنے کے لیے کنڈوم کا بدل نہیں ہے۔
![]() | |
| ختنے صدیوں پہلے بھی کیے جاتے تھے |
ادارہ کے ایک ڈاریکٹر ڈاکٹر کیون دی کک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض افریقی ملکوں میں ختنہ پالیسی کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
’ کینیا میں جو تحقیق کی گئی اس سے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر تقریباً تریپن فیصد کمی کی جاسکتی ہے جبکہ یوگنڈا میں اڑتالیس فیصد یعنی نصف مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں افریقی ممالک میں ایڈز کے مریضوں کے لیے اس سے اچھی خبر اور کیا ہوسکتی ہے‘۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کک نے کہا کہ ختنہ کرنے سے کروڑوں لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔