http://bbc.com.im/urdu/

بش کی عراق پالیسی میں تاخیر

امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر بش عراق کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان اگلے سال کے شروع میں کریں گے۔ توقع کی جارہی تھی کہ عراق جائزہ گروپ کی رپورٹ کے پس منظر میں ان کا نیا منصوبہ کرسمس سے پہلے منظر عام پر آجائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا اس تاخیر کا سبب یہ نہیں ہے کہ نئے منصوبے میں آخری منٹ پر کوئی رد و بدل کیا جا رہا ہے۔

’رپورٹ جادوئی فارمولا نہیں‘
صدام حسین پر خصوصی ضمیمہ

سابق وزیرخارجہ جیمز بیکر کی سرکردگی میں عراق اسٹڈی گروپ کی تجاویز کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ صدر بش عراق پر نئی حکمت عملی کا اعلان پچیس دسمبر سے پہلے کردیں گے۔ لیکن اس اعلان کو آئندہ برس جنوری تک ٹالنے کے بعد سرکاری حکام اس مرحلے پر کسی بڑی تبدیلی کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں۔ ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ صدر بش کی عراقی رہنماؤں سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ صدر بش سے گزشتہ ہفتے سرکردہ شیعہ رہنما باقر الحکیم کے بعد اب سینئیر ترین سنی رہنما اور نائب صدر طارق ہاشمی بھی ملے ہیں۔

لیکن عراق پر نئی حکمت عملی کا اعلان مؤخر کرنے پر ہونے والی قیاس آرائیوں کو صدر بش کے قریبی رفقاء مسترد کرتے ہیں۔

وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس کے مطابق ’صدر کا مقصد اور ذمہ داری بالکل وہی ہے جو وہ کہہ رہے ہیں کہ عراق کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر امریکی عوام کے مفادات کو ایک نئے انداز میں ترجیح دینا۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں عراق میں جاری فرقہ ورانہ تشدد بھی شامل ہے‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکہ میں عراق سے متعلق رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی عراق سے متعلق پالیسی پر خوش نہیں ہیں اور اس لیے نظر آ رہا ہے کہ صدر بش نئے سال میں جو تقریر کریں گے شاید ان کی صدارت کی سب سے اہم تقریروں میں سے ایک ہو۔

دوسری طرف عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ منگل کے روز بغداد میں ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کم از کم ستر افراد ہلاک اور دو سو تیس کے قریب زخمی ہو گئے۔