Monday, 11 December, 2006, 23:27 GMT 04:27 PST
اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے پہلی مرتبہ بلاواسطہ طور پر اسرائیل کے جوہری پروگرام کی موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے جو جوہری پروگرام پر اسرائیل کی مکمل خاموشی اور ابہام کی سرکاری پالیسی کے برخلاف ہے۔
ایک جرمن ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایہود اولمرت نےاسرائیل کے جوہری پروگرام کا تقریباً اعتراف کر لیا جو بعض مبصرین کے مطابق غیر ارادی طور پر یا زبان کا پھسل جانے کی وجہ سے ہوا۔
تاہم اسرائیل حکام کا اصرار ہے کہ وزیر اعظم کا بیان جوہری معاملہ پر اسرائیل کی خاموشی اور ابہام کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا آئینہ دار نہیں ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں کہا کہ کیا ایران کا موزانہ دوسرے تہذیب یافتہ اور جمہوری ملکوں سے نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم تہذیب یافتہ اور جمہوری ملکوں کی بات کر رہے ہیں جو دنیا کی بنیاد ہلا دینے کی دھمکیاں نہیں دیتے، جو دوسرے ملکوں کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی بات نہیں کرتے۔‘
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک جمہوری ملک ہے اور وہ کسی کو دھمکیاں نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ اسرائیل دہشت گردی سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسرائیل نے کبھی کسی کو مٹا دینے کی دھمکی نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ ایران برسرِ عام اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی بات کرتا ہے۔
انہوں نے استفہمایہ انداز میں کہا کہ کیا یہ وہی معیار ہے جس پر ایران، امریکہ، فرانس ، اسرائیل اور روس کے برابر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایہود اولمرت ایران کے جوہری پرورگرام کے خلاف عالمی تادیبی پابندیوں پر یورپی ملکوں خصوصاً جرمنی کی حمایت حاصل کرنے یورپ کے دورے پر ہیں۔
امریکہ ایران پر جوہری ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر اقوام متحدہ سے پابندیاں عائد کرانے کے لیے کوشاں ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام قطعاً پرامن مقاصد کے لیے ہے۔