Monday, 11 December, 2006, 13:45 GMT 18:45 PST
ایران میں پیر کو ایک دو روزہ کانفرنس شروع ہوئی ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ’ہولوکاسٹ‘ یعنی یہودیوں کا قتل عام ہوا بھی تھا کہ نہیں۔
جرمنی سمیت کئی ممالک نے کانفرنس کے انعقاد پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ جرمنی میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔
تاہم منتظمین کا اصرار ہے کہ کانفرنس سے ہولوکاسٹ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات پر تحفظات کے بغیر بات کرنے کا موقع ملے گا۔ کانفرنس میں تیس مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سڑسٹھ محققین ہولوکاسٹ کے حوالے سے مقالہ جات پیش کریں گے۔
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کانفرنس کی حمایت کی ہے۔ وہ خود بھی ہولوکاسٹ میں ہونے والی ہلاکتوں کی بتائی جانے والی تعداد پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے قریب ساٹھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا تھا۔
کانفرنس میں کئی معروف مغربی ’اجتہادی‘ مفکرین بھی شریک ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ بنیاد پرست یہودی عالم بھی اس موقع پر اپنا موقف پیش کریں گے۔
کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد ہولوکاسٹ کی تصدیق یا تردید کرنا نہیں ہے۔ ’اس کا مقصد ان مفکرین کو ایک موقع فراہم کرنا ہے جو ہولوکاسٹ کے بارے میں یورپ میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتے‘۔
تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران جانتا ہے کہ کانفرنس بیرونی دنیا میں غم وغصہ کا باعث ہوگی لیکن وہ مغربی دنیا کی آزادیِ اظہار سے وابستگی کا امتحان لینا چاہتا ہے۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانفرنس کو ایرانی حکومت کا ’ایک اور‘ ہتک آمیز اقدام قرار دیا ہے۔