Sunday, 10 December, 2006, 14:27 GMT 19:27 PST
عراقی صدر جلال طالبانی نےعراق کے بارے میں عراق سٹڈی گروپ کی رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کی کچھ سفارشات عراق کی خود مختاری کے نفی کرتی ہیں۔
جلال طالبانی کا ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ اپنے عہدے سے دستبردار ہونے سے کچھ دن پہلے عراق کے دورے پر پہنچے ہیں۔
جلال طالبانی نے عراق سٹڈی گروپ کی سفارشات آنے سے گروپ کی حمایت کی تھی لیکن وہ اس کی سفارشات سے بلکل متفق نہیں ہیں۔
عراقی صدر نے عراق سٹڈی گروپ کے اس سفارش پر برہمی کا اظہار کیا جس میں امریکی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ اگر عراقی حکومت اپنی کارکردگی میں بہتری لانے میں ناکام رہے تو اس کی امداد بند کر دی جانے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عراق سٹڈی گروپ عراق کو امریکہ کی کالونی سمجھتا ہے ۔
جلال طالبانی نے کہا’ بیکر، ہملٹن رپورٹ غیر منصفانہ ہے اور اس کی سفارشات عراقی خود مختاری کی نفی ہیں۔‘
عراقی صدر نے صدام حسین کے دور کے عہدیداروں کو حکومت میں شامل کی بھی مخالفت کی۔
جلال طالبانی نے کہا کہ بعث پارٹی کے عہدیداروں کوحکومت میں واپس لانا عراقی لوگوں کی جدوجہد کی نفی ہوگی۔
ادھر ڈونلڈ رمزفیلڈ نےعراق میں صوبہ انبار میں بارہ سو امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق سے امریکی فوجوں کا انخلا اس وقت تک نہیں ہونا چاہیے جب تک دشمن کو مکمل شکست نہ ہو جائے۔
ڈونلڈ رمزفیلڈ اٹھارہ دسمبر کو اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے اور ان کی جگہ رابرٹ گیٹس نئے وزیر دفاع کا عہدہ سنھبالیں گے۔