Saturday, 09 December, 2006, 23:52 GMT 04:52 PST
فلسطین میں حکمران حماس پارٹی نے صدر محمود عباس کی طرف سے دوبارہ انتخابات کرانے کی تجویز پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
صدر محمود عباس کی جانب سے بات کرتے ہوئے حکام نے کہا ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل میں تعطل کو دور کرنے کے لیے ہوسکتا ہے صدر محمود عباس نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں۔
فلسطینی میں دوبارہ انتخابات کرانے کی تجویز کو فلسطینی انتظامیہ کو ملنے والی مغربی امداد کو بحال کروانے کے لیے کی جانے والی کوشیشوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال جنوری میں حماس کی انتخابی کامیابی کے بعد مغربی ممالک نے فلسطینی انتظامیہ کو دی جانے والی مالی امداد پر پابندی لگا دی تھی۔
ایک ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم اسماعيل ہنيہ نے کہا ہے کہ دوبارہ انتخابات کروانے سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں انتخابات کروانا فلسطینی عوام کی توہین ہے جنہوں نے انتخابات میں حماس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
تاہم فلسطینی مذاکراتِ اعلی صائب ارکات کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی تعطل کو حل کرنا فلسطینیوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کی مجلسِ عاملہ نے بھی قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل میں حائل سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے از سر نو انتخابات کرانے کی تجویز پر اتفاق کیا ہے۔
حماس پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مسلح جہدوجہد ترک کر دے، اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لے اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ماضی میں ہونے والے تمام معاہدوں کی توثیق کر دے۔