Saturday, 09 December, 2006, 17:42 GMT 22:42 PST
ایک رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں بنگلادیش میں ان کے لیے کام کرنے والے ٹیکسٹائل مزدوروں کو پانچ پینس فی گھنٹہ تک کی اجرت دیتی ہیں۔
ان کمپنیوں میں ٹیسکو، ایسڈا اور پرائمارک قابلِ ذکر ہیں۔
غربت مخالف تنظیم ’وار آن وانٹ‘ کے مطابق مزدور جن کی بڑی تعداد عورتیں ہیں ہفتے میں اسی گھنٹے سے زیادہ ’موت کے کارخانوں‘ میں کام کرتے ہیں۔
ٹیسکو، ایسڈا اور پرائمارک نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
’وار آن وانٹ‘ نے اپنی رپورٹ چھ بنگلہ دیشی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ساٹھ
مزدوروں سے انٹرویو کر کے بنائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میں نئے عملہ کو دی جانے والی تنخواہ بنگلادیش کی ’لیونگ ویج‘ سے تین گناہ کم ہے۔
تنطیم کا کہنا ہے کہ سلائی کی مشین چلانے والوں کے لیے اچھی تنخواہ سولہ پاؤند ماہانہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ مزدور ایسے ہیں جو ہفتے میں 96 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں اور ان کو ہفتہ کے آخر چھٹی ملنا بھی مشکل ہے۔