Friday, 08 December, 2006, 05:51 GMT 10:51 PST
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے عوام ان عسکریت پسندوں کی پر تشدد کاروائیوں سے تنگ آ چکے ہیں جن کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں۔
افغان صدر نےان خیالات کا اظہار افغانستان کے دورے پر آئے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان چودہ سو میل پر مشتمل طویل سرحد ہے، جس کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ عناصر سرحد کے دونوں طرف متحرک ہیں۔ دونوں ممالک اپنی اپنی سرزمین پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے اکثر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد افغان صدر کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے ’صدر نے زور دے کر کہا ہے کہ افغان عوام پاکستان سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن سرحد پار سے ہونے والی دراندازی اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘۔
خورشید قصوری طالبان کی بڑھتی ہوئی شورش کو روکنے کے سلسلے میں افغانستان کے دو روزہ دورے پر کابل میں ہیں۔ افغان حکام کے ساتھ مذاکرات میں وہ سرحدوں پر امن و امان کی صورتحال اور اس حوالے سے ایک قبائلی جرگہ کرانے کے امکان پر بات چیت کرینگے۔
افغان حکومت اور افغانستان میں موجود نیٹو افواج طالبان کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کابل کی حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اس پر الزام تراشی کرتی ہے۔
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف بارہا کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں صرف طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔