Tuesday, 05 December, 2006, 08:36 GMT 13:36 PST
عراق کے بااثر شیعہ رہنماؤں میں سے ایک نے کہا ہے کہ وہ عراق میں مسائل کے حل کے لیے کسی ایسی بیرونی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں جس میں عراقی حکومت کی مرضی شامل نہ ہو۔
عبدالعزیز الحکیم نے یہ بات امریکی صدر بش سے واشنگٹن میں ایک ملاقات کے بعد کہی۔ صدر بش نے عبدالعزیز کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں عراق کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
عبدالعزیز الحکیم عراقی پارلیمان میں سب سے بڑی شیعہ جماعت ’سپریم کونسل فار اسلامک ریولُوشن اِن عراق‘ کے سربراہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی جماعت کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس میں بات چیت کے دوران صدر بش نے عبدالعزیز سے کہا ہے کہ تمام صورت حال کے باوجود امریکہ عراقی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔
![]() | |
| گزشتہ کئی ماہ سے عراق میں تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے (فائل فوٹو) |
واشنٹگن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ہفتہ عراق میں امریکی عمل دخل کو کم کرنے کے حوالے سے اہم ہے۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد امریکی صدر بش نے کہا ’مجھے عراقی عوام کے حوصلے پر فخر ہے لیکن میں نے انہیں (عبدالعزیز الحکیم) بتایا ہے کہ ہم عراق میں (حالات میں) بہتری کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں‘۔
تاہم عبدالعزیز الحکیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے خطے میں مسائل کے حل کے لیے کسی بیرونی مداخلت کے امکان کو سختی سے رد کر دیا ہے، جس میں عراقی حکومت کی مرضی شامل نہ ہو۔
عبدالعزیز الحکیم صدام حکومت کے خاتمے سے پہلے کئی برس تک ایران میں جلا وطن رہے۔ ان کی جماعت کا عسکری دھڑا ’بدر بریگیڈ‘ اگرچہ عراقی فوج اور پولیس میں ضم ہو چکا ہے، لیکن اب بھی اسے عراق میں فرقہ وارانہ فسادات ابھارنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ ’عراق سٹڈی گروپ‘ کی بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ اور تجاویز سے قبل صدر بش عراق میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے ترجیحات پر غور کر رہے ہیں۔ سٹڈی گروپ عراق میں امریکی حمکت عملی کی تشکیل نو میں ایران اور شام سے مذاکرات کی تجویز پیش کرے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے پیر کو بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عراق میں اس وقت صورت حال خانہ جنگی سے کہیں بدتر ہے تاہم عراقی حکومت نے اس بات سے انکار کیا تھا۔