http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 05 December, 2006, 00:46 GMT 05:46 PST

’عراق اپنے مسائل خود حل کرے‘

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق میں سب سے بااثر شیعہ رہنماء سمجھنے جانے والے عبدالعزیز الحکیم کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران عراقی صورتحال پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر بش نے کہا ’مجھے عراقی عوام کے حوصلے پر فخر ہے لیکن میں نے انہیں (عبدالعزیز الحکیم) بتایا ہے کہ ہم عراق میں (حالات میں) بہتری کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں‘۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ امریکہ ملک کو متحد رکھنے کی عراقی حکومت اور عبدالعزیز الحکیم کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ ’عراق سٹڈی گروپ‘ کی متوقع طور پر بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ اور تجاویز سے پہلے صدر بش عراق میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے ترجیحات پر غور کر رہے ہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ سٹڈی گروپ عراق میں امریکی حمکت عملی کی تشکیل نو میں ایران اور شام سے مذاکرات کی تجویز پیش کرے گا۔

عبدالعزیز الحکیم عراقی پارلیمان میں سب سے بڑی شیعہ جماعت ’سپریم کونسل فار اسلامک ریولوشن اِن عراق‘ کے سربراہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی جماعت کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں۔

وہ صدام حکومت کے خاتمے سے پہلے کئی برس تک ایران میں جلا وطن رہے۔ ان کی جماعت کا عسکری دھڑا ’بدر بریگیڈ‘ اگرچہ عراقی فوج اور پولیس میں ضم ہو چکا ہے، لیکن اب بھی اسے عراق میں فرقہ وارانہ فسادات ابھارنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز الحکیم سے ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر بش مشکلات سے دوچار وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے لیے عراقی بااثر رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔