Saturday, 02 December, 2006, 16:51 GMT 21:51 PST
عبدل حمید
بند آچے، انڈونیشیا
بند آچے چھوٹا سا شہر ہے، شاید سیالکوٹ سے بھی چھوٹا ہوگا لیکن یہاں کی زمین میں شاعری اور موسیقیت کی بہتات ہے۔
پچھلی اتوار کو کسی نے بتایا کہ بڑی مسجد کے ساتھ والے بازار میں آج شام مشاعرہ ہوگا۔ شام کو فرصت تھی اور آچوی مشاعرہ دیکھنے کا اشتیاق بھی، سو کچھ دوستوں کے ہمراہ نکل کھڑے ہوئے۔ جاکر دیکھا تو مشاعرہ کتابوں کی ایک دکان میں جاری تھا اور شاعر حضرات اپنا کلام ایسے سنا رہے تھے جیسے پانی پت کی لڑائی ہورہی ہو۔ یہاں اچھے شاعر کے لیے ضروری ے کہ وہ کلام سنانے کے ساتھ ساتھ شاعری کوپرفارم کرنا بھی جانتا ہو۔ لہٰذا شاعر کے گیسو و ابرو کی جنبش اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں کی حرکت بھی عنوان باندھنے میں مدد کررہے تھے۔
مشاعرہ گاہ کا سائز اپنے مال روڈ والے پاک ٹی ہاؤس کی نچلی منزل جتنا تو ہوگا ہی۔ کتابوں کی اس دکان میں دیواروں کے ساتھ چند الماریاں کھڑی ہیں، باقی دیواروں پر کسی مصور نے سلواڈور ڈالی کے اسلوب میں سریلسٹک فن پارے تخلیق کر نے کی کوشش کی ہوئی ہے۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ کوئی آٹھ دس فٹ جگہ پر سٹیج بنا یا گیا ہے، چند روشنیوں، کچھ پوسٹروں اور ایک سائیکل کے ساتھ ایک خاص طرح کا ماحول اجاگر کرنے کی کوشش کافی کامیاب ہے۔
جب ہم پہنچے تو ایک مقامی شاعر بڑی ترنگ میں لہرا لہرا کر کلام سناتے ہوئے داد سمیٹنے میں مصروف تھے۔اس مشاعرہ میں روایت ہے کہ ہر ہفتے مقامی شعراء کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے کسی شاعر کو مدعو کیا جاتا ہے اور یا پھر کسی دوسرے ملک کے کسی بڑے شاعر کا کلام پڑھا جاتا ہے۔مروج طریقہ کے مطابق غیر ملکی شاعر کا کلام اسکی اپنی زبان میں سننے کے ساتھ ساتھ آچوی زبان میں ترجمہ کر کے مقامی شاعرپرفارم کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک خاتون شستہ انگریزی میں ترجمہ بھی کرتی جاتی ہے۔ مشاعرے کے آخر میں سنائی گئی شاعری پر گفتگو کی جاتی ہے جس میں سامعین کی شمولیت بھرپور رہتی ہے۔
![]() | |
| مشاعرہ میں آنے والے لوگ ایک طرح سے مذہبی جبر کے باغی بھی تھے |
کہنے کو تو یہ کتابوں کی دکان میں شام ڈھلے سجایا گیاایک چھوٹاسا مشاعرہ تھا لیکن سچی بات یہ ہے کہ مقامی شاعروں کے کلام کے ساتھ ساتھ بیرونی شاعری پرمقامی شاعروں کی پرفارمنس نے سماں باندھ دیا۔ میں شاید پہلا پاکستانی تھا جو اس مشاعرہ میں شریک ہوا۔ مجھ سے فرمائش کی گئی کہ میں بھی کچھ سناؤں تو میں عرض کی کہ میرا شاعری سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور یار لوگ تو ویسے بھی مجھے شاعری کے دشمنوں کی صف میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن جب اصرار بہت بڑھا تو میں نے دس منٹ کی مہلت چاہی کہ میں برابر والے انٹرنیٹ کیفے سے پاکستانی شاعری ڈاؤن لوڈ کرلاتا ہوں۔گویا اس طرح میں فیض صاحب کی ’دعا‘ کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ سے نکال لایا جو کہ تھوڑی ہی دیر میں ہی ایک مقامی شاعر نے آچوی زبان میں ترجمہ کرلیا۔
’دعا‘ سے پہلے میں نے فیض صاحب کا مختصر تعارف بھی سامعین کے گوش گزار کیا۔اب میں فیض صاحب کی نظم اردو میں سنا رہا تھا، ایک آچوی شاعر اسے مقامی زبان میں زبردست اتارچڑھاؤ کے ساتھ پرفارم کر رہا تھا اور ایک لڑکی ’دعا‘ کا انگریزی ترجمہ پڑھتی جا رہی تھی۔ اردو والی دعا کو آچے کی زبان میں بھی دعا ہی کہتے ہیں۔
فیض کی دعا |
اگلی اتور یعنی مشاعرے کی شام جب میں وہاں پہنچا تویہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ سٹیج پر فیض کا بڑے سائز کا بلیک اینڈ وائٹ پوسٹر لگا ہوا ہے۔ مشاعرے کی انتظامیہ نے انٹر نیٹ سے فیض کا تفصیلی تعارف نکال کر ایک پمفلٹ کی شکل میں فوٹو سٹیٹ کرواکرتمام سامعین کو دیدیا ہوا ہے۔ شرکائے مشاعرہ کی تعداد سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس مشاعرہ کی پبلسٹی بھی خوب کی گئی ہے۔
فیض کی بارہ نظموں کے علاوہ مقامی شعراءنے جو کلام پڑھا یا پرفارم کیا انکے عنوان بھی خوب تھے۔ مثلاََ:
بے اعتباری کی رت نے ڈبویا مجھ کو،
اک کتا ہوں ترے در پر پڑا ہوا، مجھے ٹھوکر نہ مار
تو نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے
بحر ہند ہے مری زمیں، آچے سے افریقہ تک چلتا چلا جاؤنگا
جب منزل ہی روٹھ گئی تو بے سمتی کا ڈر کیسا
سدا خوش رہے تو مرے یار
چاہتوں کی اخیر دیکھی ہے ہم نے
یہ نہ کرنا تھا مرے دوست
مرے دل پر گذرنے والی سونامی ترے پیچ وخم کو ڈھا نہ سکی
آچے میں شریعت نافذ ہے، خلوت اور جلوت کے شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شراب پر مکمل پابندی ہے، مسلح اسلامی شدت پسندوں کی مہم جوئی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس مشاعرہ میں اکٹھا ہونے والے لوگ ایک طرح سے مذہبی جبر کے باغی بھی تھے۔ ایک صاحب گھر میں کشید کی ہوئی رمبوتان (ایک طرح کا پھل) کی شراب کی ایک چھوٹی سی بوتل لائے ہوئے تھے جو تمام سامعین نے کوک میں ایک ایک قطرہ شامل کر کے جبری پابندیاں نہ ماننے ک علامتی اظہار کے طور پر پی۔
اتوار ، چھبیس نومبر کو بارش میں بھیگی اس شام میں کتابوں کی اس دکان میں فیض کو آچے میں شاعری کے متوالوں نے خوب یاد کیا اور دل کھول کر داد میں نے وصول کی۔
آچے کے سفر سے پہلے میرے دل میں جو اندیشے تھے کہ زلزلوں اور سونامی سے تباہ ہونیوالی سرزمین پر نہ جانے کیا بیتے گی اور لوگوں کا رویہ جانے کیسا ہوگا لیکن یہاں آ کر معلوم ہواکہ زندہ دل لوگ ہرحال میں خوشیوں کا سامان ڈھونڈ نکالتے ہیں اور زندگی کی جستجو کو کبھی مرنے نہیں دیتے۔