Wednesday, 29 November, 2006, 01:30 GMT 06:30 PST
پاپائے روم بینیڈکٹ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریر میں کہا ہے کہ عیسائیوں اور مسلمانوں میں گفت و شنید ہونی چاہۓ جس میں آپس کے اختلافات کی قدر کی جائے اور مشترک باتوں کا احساس ہو۔
پوپ بینیڈکٹ نے کہا کہ عیسائی اور مسلمان دونوں کی روح میں ایک خدا پر ایمان شامل ہے اور دونوں کا شجرۂ نسب حضرت ابراہیم سے جاکر مل جاتا ہے۔ یہ انسانی اور روحانی تعلق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایسا مشترک راستہ تلاش کیا جائے جو دور حاضر کے رہنے والوں کے لیے بنیادی اقدار کی تلاش کی طرف جاتا ہو۔
یہ مصالحانہ بیان ان کی ستمبر کی اس تقریر کے بعد آیا ہے جسے اکثر مسلمانوں نے اسلام پر حملہ تصور کیا تھا۔
اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترکی میں اعلیٰ ترین مسلم رہنما علی بردا کوگلو نے مسلمانوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے خبردار کیا اور کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو بین الاقوامی کشیدگی میں حصہ لینے سے صاف انکار کرنا چاہیے۔
پوپ بننے کے بعد کسی بھی اسلامی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہے اور اس کے خلاف ترکی میں شدید احتجاج کیا گیا ہے۔
ترکی پہنچنے پر ملک کے وزیر اعظم رجپ طیب اردگان نے ان کا استقبال کیا۔ ترکی آمد پر پوپ اور وزیر اعظم اردگان کے درمیان بیس منٹ کی ملاقات ہوئی جس کا واضح طور پر مقصد کشیدگی کم کرنا اور دورے کو مثبت رنگ دینا تھا۔
پوپ کے دورے کی مخالفت کا سبب ستمبر میں جرمنی کے دورے کے دوران ان کا وہ لیکچر تھا جس اسلام پر تنقید سمجھا گیا کہا گیا کہ انہوں نے اسلام کو ایک ’پرتشدد مذہب‘ کہا تھا۔
ترک وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کے دوران پوپ نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کے یورپی اتحاد میں شمولیت کے سلسلے میں جاری مذاکرات نازک مرحلے پر ہیں اور مسیحی مغرب کا ترکی کی جانب رویہ بہت حساس ہے۔ ان حالات میں پوپ کا ترکی کا دورہ مغرب کی تشویش کے تناظر میں اہم ہے۔