Tuesday, 28 November, 2006, 07:08 GMT 12:08 PST
پوپ بینیڈکٹ ترکی کے چار روزہ دورے کی تیاریاں کررہے ہیں جوکہ ان کے پوپ بننے کے بعد کسی بھی اسلامی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہے۔
اس دورے کا مقصد استنبول میں ’اورتھوڈوکس‘ کرسچن چرچ کے سربراہ سے ملاقات کرنا ہے۔
تاہم پوپ کے دینِ اسلام کے خلاف حالیہ بیانوں پر مشتعل ترکی کے کئی حلقوں نے ان (پوپ) کی آمد سے قبل ملک میں احتجاج مظاہرے کیئے ہیں۔
اس سلسلے میں سوموار کو ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں تقریباً بیس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ اجتجاج کے شرکاء پوپ بینیڈکٹ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ یا تو وہ اسلام کے خلاف اپنے بیان پر معافی مانگیں یا پھر وہ ترکی کے دورہ پر نہیں آئیں۔
پوپ کے دورے سے قبل اور ان کے قیام کے دوران ملک کی سکیورٹی بڑھادی جائے گی۔
پوپ ترکی میں اپنے قیام کے دوران اپنی روایتی گاڑی کی بجائے ایک ’بلٹ پروف‘ گاڑی استعمال کریں گے۔ ترکی کے حکام کا اصرار ہے کہ ملک میں قیام کے دوران پوپ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
ترکی میں پوپ بینیڈکٹ استنبول کی تاریخی مسجد کا دورہ بھی کریں گے اور ترکی کی عیسائی برادری کے سربراہ سے ملاقات کے علاوہ مسلم اور یہودی رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔
پوپ کے دورے کی مخالفت کا سبب ستمبر میں جرمنی کے دورے کے دوران جاری کردہ ان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے اسلام پر تنقید کی تھی اور چودھویں صدی کے ایک عیسائی حکمران کا حوالہ دیا تھا جس نے اسلام کو ایک ’پرتشدد مذہب‘ کہا تھا۔
پوپ کا اصرار تھا کہ ان کا یہ بیان ان کی اپنی رائے کو ظاہر نہیں کرتا تاہم پوپ کی تقریر مسلم ممالک میں شدید اشتعال و احتجاج کا باعث بنی۔
ترکی کے صدر طیب اردگان منگل کو دن کے گیارہ بجے کے قریب انقرہ میں پوپ سے ملیں گے۔ پہلے طیب اردگان پوپ بینیڈکٹ سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔
پوپ کے ترکی پہنچنے سے قبل ایک حکومتی وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دورہ عیسائی اور مسلم برادری کے تعلقات میں بہتری کا باعث بنے گا۔
1981 میں ایک ترک محافظ علی اگکا نے روم میں پوپ جان پال ٹو کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔