http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 28 November, 2006, 14:41 GMT 19:41 PST

پوپ کا ترکی کا دورہ شروع

پوپ بینیڈکٹ نے ترکی کے چار روزہ دورے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ان کا پوپ بننے کے بعد کسی بھی اسلامی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہے اور اس کے خلاف ترکی میں شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

ترکی پہنچنے پر ملک کے وزیر اعظم رجپ طیب اردگان نے ان کا استقبال کیا۔ ترکی آمد پر پوپ اور وزیر اعظم اردگان کے درمیان بیس منٹ کی ملاقات ہوئی جس کا واضح طور پر مقصد کشیدگی کم کرنا اور دورے کو مثبت رنگ دینا تھا۔

پوپ نے دورے کے آغاز پر کہا کہ وہ اس لیے ترکی آنا چاہتے تھے کیونکہ یہ ملک مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان پُل کا کام دیتا ہے۔ انہوں نے اس دورے کو اسلام اور عیسایت کے لیے مفاہمت کا موقع قرار دیا۔

پوپ بینیڈکٹ اس دورے میں استنبول میں ’اورتھوڈوکس‘ کرسچن چرچ کے سربراہ سے ملاقات کرنا ہے۔

تاہم پوپ کے دینِ اسلام کے خلاف حالیہ بیانوں پر مشتعل ترکی کے کئی حلقوں نے ان (پوپ) کی آمد سے قبل ملک میں احتجاج مظاہرے کیئے ہیں۔

اس سلسلے میں سوموار کو ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں تقریباً بیس ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اجتجاج کے شرکاء پوپ بینیڈکٹ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ یا تو وہ اسلام کے خلاف اپنے بیان پر معافی مانگیں یا پھر وہ ترکی کے دورہ پر نہیں آئیں۔

پوپ کے دورے سے قبل اور ان کے قیام کے دوران ملک کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گی تھی۔

پوپ ترکی میں اپنے قیام کے دوران اپنی روایتی گاڑی کی بجائے ایک ’بلٹ پروف‘ گاڑی استعمال کریں گے۔ ترکی کے حکام کا اصرار ہے کہ ملک میں قیام کے دوران پوپ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

ترکی میں پوپ بینیڈکٹ استنبول کی تاریخی مسجد کا دورہ بھی کریں گے اور ترکی کی عیسائی برادری کے سربراہ سے ملاقات کے علاوہ مسلم اور یہودی رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔

پوپ کے دورے کی مخالفت کا سبب ستمبر میں جرمنی کے دورے کے دوران ان کا وہ لیکچر تھا جس اسلام پر تنقید سمجھا گیا کہا گیا کہ انہوں نے اسلام کو ایک ’پرتشدد مذہب‘ کہا تھا۔

پوپ کا اصرار تھا کہ ان کا یہ بیان ان کی اپنی رائے کو ظاہر نہیں کرتا تاہم پوپ کی تقریر مسلم ممالک میں شدید اشتعال و احتجاج کا باعث بنی۔

پوپ کے ترکی پہنچنے سے قبل ایک حکومتی وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دورہ عیسائی اور مسلم برادری کے تعلقات میں بہتری کا باعث بنے گا۔

1981 میں ایک ترک محافظ علی اگکا نے روم میں پوپ جان پال ٹو کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔