Tuesday, 28 November, 2006, 23:04 GMT 04:04 PST
عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رمادی شہر میں امریکی میرینز کی مزاحمت کاروں کے ساتھ ایک چھڑپ کے دوران پانچ بچیاں ہلاک ہو گئی ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک گھر کی چھت پر موجود مزاحمت کاروں نے فوجی دستے پر فائرنگ کی جس کے جواب میں امریکی فوج نے اس مکان پر توپ سے گولہ داغا جس کے نتیجے میں یہ بچیاں ہلاک ہوئیں۔
فوجیوں کی جانب سے مکان کی تلاشی کے دوران ان پانچ بچیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک شیر خوار بچی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں ایک مزاحمت کار زخمی بھی ہوا جسے اس کے ساتھی اپنے ساتھ لے گئے ۔
رمادی شہر بغداد کے مغرب میں ایک سو پندرہ کلومیٹر کی مسافت پر انبار صوبے میں واقع ہے اور اسے سنی عرب شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے سب سے کم عمر بچی کی عمر چھ ماہ تھی جب کے ان میں سب سے بڑی بچی دس سال کی تھی۔ امریکی فوج کے بیان کےمطابق زخمیوں میں ایک اور خاتون بھی تھیں لیکن جب انہیں طبی امداد کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے انکار کر دیا۔
یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی فوج نے رمادی کے شمال مشرق میں سڑک کے کنارے ایک دھماکہ خیز مواد دیکھا۔ امریکی فوجیوں کے مطابق جب اس دھماکہ خیز مواد کا اثر ختم کیا جا رہا تھا تو قریب کے ایک مکان کی چھت سے دو عراقیوں نے پوزیشنیں سنبھال لیں اور فائرنگ شروع کر دی۔
امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فائرنگ کے جواب میں امریکی فوجیوں نے مکان کی چھت پر ٹینکوں سے گولے داغے۔
امریکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ مزاحمت کاروں کی کارروائی سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے اور کوشش جاری ہے کہ بچ جانے والے خاندان کو امداد فراہم کی جائے۔