Monday, 27 November, 2006, 12:40 GMT 17:40 PST
اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ فلسطین کے ساتھ تعطل کے شکار قیام امن کے عمل کو بحال کیا جا سکے گا۔
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر عملدرآمد کے بعد اولمرت نے اپنے اہم خطاب میں کہا ہے کہ اگر فلسطینی عسکریت پسند مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا کردیں اور پر تشدد کارروائیوں سے اجتناب کریں تو اس کے بدلے وہ فلسطین کو اقتصادی تعاون اور انسانی بنیادوں پر امداد دینے کو تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے یہ تاریخی لمحہ ہے۔اولمرت کا کہنا تھا ’فلسطین کے ساتھ امن کے بدلے ہم بڑے علاقوں سے فوج کے انخلاء پر تیار ہیں‘۔
یہ تقریر ایسے وقت پر کی گئی ہے جب امریکی اہلکاروں کی سفارتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور اسی ہفتے انہوں نے اسرائیل کے کئی دورے بھی کیے ہیں۔
اس سے قبل ایک چھاپے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن میں پیر کی صبح دو فلسطینیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا جن میں سے ایک 55 سالہ فلسطینی خاتون تھی۔
تاہم پر تشدد کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں انہوں نے سخت نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لائن کا کہنا ہے کہ ایہود اولمرت نے یہ وعدے پہلے بھی کیے ہیں لیکن اس بار ایک خاص موقع پر یہ تقریر خاصی اہمیت کی حامل ہے۔
ایہود اولمرت نے اس سال جنوری میں اس وعدے پر انتخابات میں فتح حاصل کی تھی کہ وہ یک طرفہ طور پر مزید (یہودی آباد کاروں) انخلاء کریں گے، لیکن لبنان اور غزہ میں تصادم کے بعد اس وعدے کے حوالے سے ان کی ساکھ خاصی متاثر ہوئی۔
دوسری جانب فلسطینی عسکریت پسند گروہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنے فوجی آپریشن جاری رکھے تو اتوار کو لاگو کی گئی جنگ بندی توڑی بھی جاسکتی ہے۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو 55 سالہ خاتون کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ زخمی ہونے والے فلسطینی شخص کی مدد کے لیے آگے بڑھی تھی۔
اسرائیلی فوجی کہتے ہیں کہ وہ خاتون زخمی ہونے والے کی بندوق ہتھیانے کی کوشش کررہی تھی۔
گزشتہ 4 ماہ کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 300 سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں۔