Saturday, 25 November, 2006, 10:07 GMT 15:07 PST
عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ ملک میں تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے بلائی جانی والی سکیورٹی کانفرنس انتہائی کامیاب رہی ہے۔
سکیورٹی کانفرنس میں عراق کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
عراق میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس نے دس مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
عراقی صدر نے کہا سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت انتہائی کامیاب رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ تمام شرکاء نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ملک میں تشدد کو روکنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دھانی کرائی ہے۔
بغداد میں پچھلے دو دنوں میں کم از کم 230 افراد تشدد میں ہلاک ہو چکے ہیں اور بغداد میں کرفیو نافذ ہے۔عراقی صدر نے ایران کا طے شدہ دورہ ملتوی کر کے سیکورٹی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔
ادھر عراق میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تاجی قصبہ میں دس مزاحمت کارروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
![]() | |
| عراق میں آل پارٹی سکیورٹی کونسل کی مجلس میں حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا |
ترجمان کے مطابق مزاحمت کارروں کی اسلحہ فیکٹری سے ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد جس میں راکٹ لانچر سے داغے جانے والے گرینیڈ ، مشین گن ، پائپ بم، اور اینٹی ایئر کرافٹ ہتھیار برآمد گئے ہیں۔ اسلحہ کی اس فیکٹری کو بعد میں بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے عراق میں فرقہ وارانہ تشدد ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جایا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ متششدد گروہ معصوم لوگوں کو ہلاک کر کے جمہوری حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا فرقہ وارانہ تشدد کے باوجود امریکی صدر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے ساتھ اردن میں ملاقات کریں گے۔
ادھر عراق کی حکومت میں شامل شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کے حامیوں نے وزیراعظم نورالمالکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی تو وہ کابینہ اور پارلیمان سے مستعفی ہو جائیں گے۔
نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان اگلے ہفتے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات متوقع ہے۔ مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو جمعرات کو صدر سٹی میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔