http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 25 November, 2006, 14:41 GMT 19:41 PST

مردوں کوگھروں سے نکال کرماراگیا

عراق میں پولیس نے کہا ہے کہ مسلح افراد نے دو شیعہ خاندانوں کے گھروں سے اکیس مردوں کو نکال کر گولیاں مار دی ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں سنیچر کی صبح ملی ہیں۔ یہ حملہ بغداد سے شمال مشرق میں ستر کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں میں پیش آیا۔

فرقہ وارانہ تشدد میں دو سو ہلاک

ایک سو بتیس ہلاکتیں، بغداد میں کرفیو

دریں اثناء عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ ملک میں تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے بلائی جانی والی سکیورٹی کانفرنس انتہائی کامیاب رہی ہے۔
سکیورٹی کانفرنس میں عراق کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

عراقی صدر نے ایران کا طے شدہ دورہ ملتوی کر کے سیکورٹی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔

تشدد کے دیگر واقعات میں امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بغداد کے قریب ایک جھڑپ میں بائیس مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسی طرح تاجی گاؤں میں بم بنانے والی ایک فیکٹری پر چھاپےمیں دس افراد ہلاک ہو گئے۔

امریکی فوج نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک نوجوان لڑکا ہلاک اور ایک حاملہ عورت زخمی ہوئی۔

امریکی فوج کے مطابق انہوں نے کاروں کے ایک کارواں پر فائرنگ کی جس نے واننگ شاٹ کے باوجود رکنے سے انکار تھا اور اس واقعے میں بارہ مزاحمت کار مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے میں ایسا شخص بھی تھا جو کار بم بنانے کے الزام میں مطلوب تھا۔

ترجمان کے مطابق مزاحمت کارروں کی اسلحہ فیکٹری سے ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد جس میں راکٹ لانچر سے داغے جانے والے گرینیڈ ، مشین گن ، پائپ بم، اور اینٹی ایئر کرافٹ ہتھیار برآمد گئے ہیں۔ اسلحہ کی اس فیکٹری کو بعد میں بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس نے عراق میں فرقہ وارانہ تشدد ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جایا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ متششدد گروہ معصوم لوگوں کو ہلاک کر کے جمہوری حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا فرقہ وارانہ تشدد کے باوجود امریکی صدر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے ساتھ اردن میں ملاقات کریں گے۔

ادھر عراق کی حکومت میں شامل شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کے حامیوں نے وزیراعظم نورالمالکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی تو وہ کابینہ اور پارلیمان سے مستعفی ہو جائیں گے۔

نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان اگلے ہفتے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات متوقع ہے۔ مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو جمعرات کو صدر سٹی میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔