http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 24 November, 2006, 14:17 GMT 19:17 PST

فلسطینی پیشکش مسترد

اسرائیل نے فلسطین شدت پسند گروپوں کی طرف سے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے کہ اگر اسرائیل غزہ پر فوجی کشی روک دے تو وہ اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کرنا بند کر دیں گے۔

اسرائیلی حکومت کی ترجمان مری ایسن نے کہا ہے کہ فلسطینی شدت پسند گروپوں نے صرف جزوی جنگ بندی کی پیش کش کی تھی۔

فلسطینیوں کی اس پیش کش پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راکٹ باری روکنے کی پیش کش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امن کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

اسرائیل کو مشروط جنگ بندی کی پیش کش فلسطینیوں شدت پسندوں کی تمام گروپوں کے اجلاس کے بعد کی گئی جس میں حماس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اسرائیل ماضی میں فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے جنگ بندی کی تمام پیش کشیں یہ کہہ کر ٹھکراتا رہا ہے کہ وہ’ دشت گرد تنظیموں‘ کے ساتھ معاہدے کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔

اس سال جون سے لے کر اب تک اسرائیل چار سو کے قریب فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے جن میں نصف تعداد شہریوں کی تھی۔

اسرائیل کے حملوں کے رد عمل میں گزشتہ روز ایک ستاون سالہ فلسطینی خاتون نے اسرائیل فوجی چوکی پر خود کش حملہ کرکے تین اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہو گئے تھے۔

جمعرات کو غزہ پر اسرائیلی حملے میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیل نے غزہ میں یہودی آبادیاں اور فوجی چوکیاں گزشتہ سال ختم کر دی تھیں لیکن جون میں ایک اسرائیلی فوجی کے اغواء ہوجانے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

فلسطینی راکٹ حملوں میں اب تک تین اسرائیلی فوجی اور دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔