http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 24 November, 2006, 16:15 GMT 21:15 PST

بغداد پر ایک اور بدترین حملہ

جمعرات کو بغداد کے شیعہ اکثریت علاقے صدر سٹی میں سلسلہ وار خودکش کار بم اور مارٹر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ جمعہ کوجاری رہا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک اور تقریبًا ایک سو پچاس زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے کو سن دو ہزار تین میں بغداد میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد بدترین حملہ کہا جارہا ہے۔

اس موقع پر ایک سنی رہنماء طارق الحاشمی نے کہا کہ ’تمام رہنماء گہری تشویش کے ساتھ بغداد کی خراب ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم عراقیوں کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر مقتدہ الصدر کے حامی کابینہ اور پارلیمان سے علیحدہ ہوجاتے ہیں تو یہ عراقی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہوگا۔

اُدھر عراق میں تشدد کے تازہ ترین واقعات میں شمالی شہر تلعفر میں کیے جانے والے خودکش حملوں میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد کے شمال مشرق میں واقع شہر بعقوبہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ مشتبہ مزاحمت کاروں نے شیعہ عالم مقتدہ الصدر کی تحریک کے دفتر پر حملہ کیا ہے۔