http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 24 November, 2006, 12:20 GMT 17:20 PST

روس، یورپی یونین اجلاس ناکام

یورپی یونین اور روس کے درمیان ہیلسنکی میں شروع ہونے والا اجلاس یورپی یونین میں تلخی کے باعث کامیاب نہیں ہو سکا۔

فن لینڈ کے دارالحکومت میں ہونے والے اس اجلاس میں دونوں فریقوں کے درمیان جن امور پر بات چیت متوقع تھی ان میں تونائی، نقل مکانی، اور چند دیگر امور شامل ہیں۔

لیکن پولینڈ نے روس کے ساتھ کسی شعبے میں بھی شراکت کاری کو ویٹو کر دیا ہے۔ پولینڈ کا موقف ہے کہ جب تک روس ان کے ملک سے برآمد کیے جانے والے گوشت اور سبزیوں سے پابندی نہیں اٹھاتا وہ روس کے ساتھ کسی شعبے میں کام نہیں کریں گے۔

یورپی یونین کے باقی ممبران نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ وہ پولینڈ کو اپنا ارادہ بدلنے پر آمادہ کریں لیکن کوئی کوشش بھی کارآمد ثابت نہیں ہوئی جس کے بعد یورپی یونین کے رہنما پولینڈ کی حمایت میں اجلاس سے باہر نکل گئے۔

ہیلسنکی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈیمنڈ کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ہو گیا ہے۔

روسی صدر ولادیمر پیوتن نے اجلاس کی ناکامی کے تاثرات کو رد کیا ہے جیسا کہ اجلاس کی کاروائی میں رکاوٹ بننے والا مسئلہ تکنیکی نوعیت کا ہے جسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین کے سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے پر بات چیت کا آغاز اس وقت کیا جائے گا جب پولینڈ کے اعتراضات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور روس کے درمیان کئی امور پر بات چیت ضروری ہے جن میں ایران، مشرقِ وسطٰی، شمالی کوریا، اور نئی توانائی کی پالیسی شامل ہیں۔

لیکن مذاکرات میں رکاوٹ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یورپی یونین میں مختلف درجہ بندیاں ہیں جس کی وجہ سے یورپی یونین اپنے ایک اہم تجارتی شراکت کار کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکی۔