Friday, 24 November, 2006, 17:06 GMT 22:06 PST
عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعہ کو چار سنی مساجد پر حملوں میں اکتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سنی مساجد پر حملوں کو گزشتہ روز شعیہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے بم حملوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے بم حملوں میں دوسو سے زائد افراد جان بحق ہو گئے تھے۔
حکومت نے جمعرات کو صدر سٹی کے علاقے میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تجہیزوتکفین کے لیے کرفیو میں نرمی کی تھی۔
ادھر عراق کی حکومت میں موجود شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کے حامیوں نے وزیراعظم نورالمالکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی تو وہ کابینہ اور پارلیمان سے مستعفی ہو جائیں گے۔
نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان اگلے ہفتے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات متوقع ہے۔ مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو جمعرات کو صدر سٹی میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔
ادھر جمعہ کو ملک کے جنوبی شہر موصل میں دو خود کش حملوں میں بائیس افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور کار میں سوار تھا جبکہ دوسرے نے دھماکہ اپنے جسم پر لگے بم سے کیا۔