Tuesday, 21 November, 2006, 03:45 GMT 08:45 PST
عراق میں استحکام کے لیے ایران اور شام کو شامل کرنے کی کوشش بظاہر اب رو بہ عمل ہوتی نظر آ رہی ہے اور عراق کے صدر جلال طالبانی ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کی دعوت پر ان سے بات چیت کے لیے ہفتے کے روز ایران جائیں گے اور متوقع طور پر اس بات چیت کا محور عراق کی سلامتی کی صورتحال ہوگی۔
اطلاعات ہیں کہ ممکنہ طور پر شام کے صدر بشار الاسد بھی اس بت چیتمیں شامل ہوں گے تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دو ہزار تین کے بعد اپنے پہلے دورۂ عراق میں وزیر اعظم نور المالکی اور صدر طالبانی اور دیگر سیاستدانوں سے بات چیت کی ہے۔
دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے صدام حسین کے مقدمے کو غیر منصفانہ قرار دیے جانے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی منصفانہ تھی اور صدام حسین کو اپنے دفاع کا مکمل حق تھا جبکہ عدالت کی کارروائی تمام دنیا نے دیکھی۔