Tuesday, 21 November, 2006, 14:06 GMT 19:06 PST
ایک امریکی جریدے کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئے اے کو ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔
ایک تجربہ کار تحقیقات کار اور رپورٹر سیمور ہرش نے ’دی نیو یارکر‘ میگزین میں سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جوکہ سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ دستاویز میں واشنگٹن کے ان خیالات کو چیلنج کیا گیا ہے جن کے مطابق امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی نیت رکھتا ہے۔
جریدے میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کی مذکورہ رپورٹ کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا رویہ اسے نظر انداز کردینے والا تھا۔
امریکہ اور یورپ کا کہنا ہے کہ ایران ایک خفیہ جوہری پروگرام پر کام کررہا ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے۔ ایران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
کچھ پتہ نہیں |
جریدے کے آرٹیکل میں ہرش لکھتے ہیں ’سی آئی اے کو اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ ایران کسی خفیہ جوہری پروگرام پر کار بند ہے جو کہ اس کے پرامن جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو‘۔
آرٹیکل کے مطابق سی آئی اے نے اپنی رپورٹ تکنیکی معلومات کی بنیاد پر منتج کی ہے جن میں سیٹلائٹ امیج اور دیگر معلومات شامل ہے جوکہ امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں سے حاصل کی گئی ہے۔
جریدے میں کہا گیا ہے کہ ’ایجنسی کے ایک اعلٰی اہلکار نے سی آئی کے تجزیے کی تصدیق کی ہےاور مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا رویہ اس رپورٹ کے بارے میں غیر دوستانہ ہے‘۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے آرٹیکل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بش انتظامیہ کے بارے میں غلط اندازوں پر مبنی ہے۔ ’وائٹ ہاؤں ایسے شخص کے کام اور تجزیے کو تسلیم نہیں کرے گا جو ہمارے فوجیوں کی ہتک کرتا رہا ہو اور اس کی تحقیق جھوٹ پر مبنی ہو اور جس کا مقصد اس کے اپنے بنیاد پرست خیالات کا جواز پیش کرنا ہو‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم براکس کا کہنا ہے کہ اگر ’دی نیویارکر‘ کا آرٹیکل درست ہے تو اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے حوالے سے سی آئی اے بش انتظامیہ کی نسبت زیادہ محتاط ہے۔