Monday, 20 November, 2006, 00:03 GMT 05:03 PST
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے وکیل نے کہا ہے کہ انہیں صدام حسین کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اسی دوران انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت منصفانہ نہیں تھی۔
عراقی قانون کے تحت صدام حسین کو سنائئ جانے والی سزا کے خلاف اپیل ایک مہینے کے اندر دائر کی جانی چاہیے لیکن صدام حسین کے وکیل خلیل الدلیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ایسا کرنے سے روکا جا رہا ہے جبکہ وکیل استغاثہ جعفر الموسوی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمے کی کارروائی منصفانہ تھی اور اپیل پروگرام کے مطابق ہو گی۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقدمے کے دوران دفاع کو گواہوں پر جرح سے روکا گیا اور ججوں نے ایسے ریمارکس دیے جو فیصلے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دینے کے مترادف تھے۔ رپورٹ میں وکلائے دفاع پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ انہوں نے عدالت کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی ان کو درپیش مشکلات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو کو ہلاک کر دیا گیا اور دیگر کو مناسب تحفظ حاصل نہیں تھا۔ ان کو نامکمل معلومات فراہم کی گئیں اور وہ بھی اکثر تاخیر سے اور ایسی کہ انہیں پڑھنا مشکل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کسی کو پھانسی دینے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک ایسی تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی جو صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ لیکن دس ماہ کے دوران ججوں اور وکلاء کے انٹرویو اور کارروائی کے جائزے کے بعد اس کا خیال ہے کہ دجیل میں ہلاکتوں کے مقدمے کی سماعت غیر منصفانہ تھی اور اس کی بنیاد پر پھانسی کی سزا ناقابل قبول ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران دفاع کو مستقل شواہد کے بارے میں پہلے مطلع کرنے میں کوتاہی برتی گئی اور ملزمان کو گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا۔