Sunday, 19 November, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
روس نے ان الزمات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے روس کے جاسوسی ادارے ' کے جی بی' کے ایک سابق رکن کو کو زہر دیکر مارنے کی کوشش کی تھی۔
الیگزنڈر لِٹوینِنکو نامی سابق ایجنٹ کی گزشتہ ایک نوبر کو لندن کی ایک بار میں اچانک حالات خراب ہوگئی تھی۔
روسی حکومت کے ترجمان ڈمٹری پسکوف نے کہا ہے کہ ' میں ایسے الزامات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا جو پوری طرح غلط ہوں۔'
اسی دوران الیگزنڈرگولڈفاب جنہوں نے ابتداء میں روس پر الزام عائد کیا تھا انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس کے خلاف کوئی واضح ثبوت نہیں ہیں۔ 'انہوں نے ایک دوملاقاتیں کی تھیں پھر شراب نوشی کی تھی اور ممکن ہے یہ زہر شراب نوشی کے سبب بھی پیدا ہوگیا ہو۔'
گولڈفاب شروع ہی سے لِٹوینِنکو کی ہسپتال میں عیادت کرتے رہے ہیں۔
ادھر برطانوی پولیس سابق روسی کرنل کو برطانیہ میں زہر دے کر مار ڈالنے کی کوشش کی تحقیق کر رہی ہے۔
الیگزنڈر لِٹوینِنکو نامی سابق ایجنٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پیوتن کے ناقدین میں سے ہیں اور وہ کچھ عرصے سے برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے انہیں ’تھیلیئم‘ نامی انتہائی زہریلی دھات دے کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے مطابق الیگزنڈر اس وقت برطانیہ کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں اور اب ان کی حالت تشویشناک لیکن خطرے سے باہر ہے۔
الیگزنڈر لِٹوینِنکو نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ اس ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ہی ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔
تھیلیئم نامی زہر انسان نظامِ اعصاب، پھیپھڑوں، دل، جگر اور گردوں کو ناکارہ کر دیتا ہے اور اس کی علامات بالوں کے گرنے، قے اور ڈائریا سے ظاہر ہوتی ہیں۔ تھیلیئم کی محض ایک گرام مقدار بھی انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔
سابق روسی جاسوس لِٹوینِنکو کے دوستوں کا کہنا ہے کہ لِٹوینِنکو اس وقت اپنی موت سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے بال گر چکے ہیں اور انہیں بولنے میں دقت ہو رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ سابق جاسوس روسی صحافی اینا پولیکووسکایا کے قتل کی تحقیق کر رہے تھے۔ پولیتکووسکایا روسی صدر ولادی میر پیوتن کے ناقدین میں سے تھیں اور وہ روس کی چیچنیا میں پالیسی کے خلاف کئی بار لکھ چکی تھیں۔ پچھلے ماہ انہیں ماسکو میں ان کے ہی اپارٹمنٹ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔