Saturday, 18 November, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کے افغانستان میں عدم استحکام علاقے میں امن اور خوشحالی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
بھارت کے دارالحکومت دلی میں افغانستان کی معاشی خوشحالی کی کوششیں تیز کرنے کے لیے ہونے والی ہمسایہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے ان کی حکومت تعمیر نو کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن انتہا پسندی اور مسلح گروہوں کی پر تشدد کاروائیوں سے نمٹنا آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
دلی میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان اور ایران سمیت خطے کے کئی دوسرے ممالک سے حکومتی نمائندے بھی شریک ہیں۔
صدر کرزئی نے کہا ’امن و امان کی نازک صورتحال، نقل و حمل کی ناکافی سہولتیں اور پالیسیوں میں غیر مستقل مزاجی جیسے عوامل علاقائی معاشی تعاون میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘۔
اخبار گارڈین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ ٹام کوئنگز کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے اعتماد، گڈ گورننس اور افغان فوج کی مدد کے بغیر نیٹو فورسز طالبان کو شکست نہیں دے سکتیں۔
ان کا کہنا تھا ’نیٹو فورسز بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں لیکن انہیں معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے‘۔
انہوں نے مزید کہا ’آپ کو لوگوں کے دل جیتنے ہونگے اور یہ صرف گڈ گورننس، بااخلاق پولیس، پاکستان سے بہتر سفارتی تعلقات اور معاشی ترقی سے ہی ممکن ہے‘۔
نیٹو فورسز کو افغانستان کے جنوبی حصے میں طالبان ہتھیار بندوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس سال مسلح جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے چار ہزار افراد میں سے ایک چوتھائی عام شہری ہیں اور تصادم کے زیادہ تر واقعات حشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’امداد میں تاخیر سے ضرورت مند لوگ بری طرح متاثر ہونگے، اس حوالے سے ہمیں شدید پریشانی لاحق ہے۔ اگر ہم بروقت خوراک فراہم نہ کر سکے تو ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہونگی‘۔
انہوں نے کہا کہ جن تیس لاکھ لوگوں کی ذمہ داری عالمی ادارہ خوراک نے اٹھائی ہے ان کے علاوہ مزید اتنے ہی لوگ افغانستان میں خوراک کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہیں، جبکہ تقریباً بیس لاکھ لوگ ان کے علاوہ ہیں جو ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں در پیش خشک سالی سے متاثر ہیں۔
دریں اثناء افغانستان کے بعض مغربی علاقوں میں آئے حالیہ سیلاب کی وجہ سے پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔