Friday, 17 November, 2006, 02:32 GMT 07:32 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن
امریکی سینیٹ نے بھاری اکثریت سے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے متنازع جوہری معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔
اس معاہدے پر جمعرات کو امریکی سینٹ میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کے پچاسی سینیٹروں نے سمجھوتے کے حق میں جبکہ صرف بارہ نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیئے ۔ معاہدے کے حامیوں نے اسےدونوں ممالک کے گہرے ہوتے ہوئے رشتوں کے لیئے تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی کانگریس کی طرف سے بھارت کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی منظوری کے بعد ایک طرح سے امریکہ نے بھارت کو باضابطہ طور پر ایک جوہری طاقت تسلیم کرلیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے کے قانون پر دس گھنٹے کی بحث کے بعد اس کو رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا۔
![]() | |
| اگنی میزائیل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے |
امریکی سینیٹ میں دن بھر جاری رہنے والے بحث مباحثے کے دوران بعض ڈیموکریٹس نے اپنے خدشات کو دور کرنے کے لئے مجوزہ معاہدے میں ترامیم تجویز کیں۔ لیکن ان ترامیم کو ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس کی اکثریت نے مل کر یہ کہ کر رد کردیا کہ نئی شرائط بھارتی حکومت کو قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
سینیٹ میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ حال ہی میں دو بھارتی کمپنیوں نے ایران کو میزائیل ٹیکنالوجی فراہم کی ہے اور اس بنا پر انہیں امریکی حکومت نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
سینیٹر رچرڈ لوگر کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو امریکہ کے ساتھ جوہری عدم پھلاؤ کی عالمی کوششوں میں تعاون کرنے کی ترغیب دے گا اور جوہری تجربے کرنے سے بھی باز رکھے گا۔
منظور کئے جانے والے سمجھوتے کے تحت بھارت مستقبل میں ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا پابند ہے۔ اگر بھارت نے ایسا کیا تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
![]() | |
| بھارت میں بھی کچھ حلقے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کے حق میں نہیں تھے |
بھارت ہمیشہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی میں شمولیت سے انکار کرتا رہا ہے ۔ بھارت نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں خفیہ طور پر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو فروغ دیا۔
اسی طرح بھارت پر لازم ہوگا کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کا عدم پھیلائو یقینی بنانے کے لیئے تمام مناسب اقدامات یقینی بنائے۔ اگر بھارت کی طرف سے جوہری ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ سامنے آیا تو اس سے یہ معاہدے ختم ہوجائے گا۔
معاہدے کے تحت بھارت اپنی تمام سویلین ایٹمی تنصیبات کو عالمی ماہرین کی نگرانی کے لیئے کھولنے کا پابند ہو جائے گا۔
بھارت کی فوجی تنصیبات پرالبتہ یہ معاہدے لاگو نہیں ہو گا۔
معاہدے کے مطابق امریکہ بھارت کو نیوکلیئرٹیکنالوجی اور جوہری ایندھن فراہم کر سکے گا لیکن ایندھن کی افزودگی یا ’ری پروسیسنگ‘ کرنے والی ٹیکلنالوجی بھارت کو نہیں ملے گی۔
معاہدے کے تحت امریکہ یہ بھی یقینی بنائے گا کہ سویلین مقاصد یا بجلی پیدا کرنے کے لیئے فراہم کی جانے والی ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایندھن کسی طرح بھی بھارت کے فوجی پروگرام کے لیئے استعمال نہ کیا جاسکے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان پہلے ہی بھاری اکثریت سے اس سمجھوتے کو منظور کر چکا ہے۔ سینیٹ کی طرف سے منظوری کے بعد دونوں ایوانوں کے قوانین کو ملا کر ایک کیا جائے گا جس پر بعد میں صدر بش دستخط کریں گے۔
![]() | |
| بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے صدر بش کے بھارت کے دورے کے دوران طے پایا تھا |
بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی اور پرزجات کی فروخت کرنے والے ملکوں کی عالمی تنظیم نیوکلیئر سپلائیر گروپ سےاجازت لینی ہوگی۔
دلی کو اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے اس کے وضع کردہ حدودوقیود پر بات کرنی ہوگی۔
ان روکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تکنکی معاملات پر بات کرنا ہوگی اور سینیٹ کو مجموعی طور پر اس کی منظوری دینا ہوگی۔