Friday, 17 November, 2006, 15:57 GMT 20:57 PST
سوڈان کے صدر عمر البشیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دارفور میں امن کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے افریقی یونین کے دستوں کی حمایت کے اقدام کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
تاہم اپنے بیان میں انہوں نے اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا جو (دارفور میں) مبینہ طور پر اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی مشترکہ فورس متعارف کرانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
سوڈان نے ہمیشہ اس تجویز کی مخالفت کی ہے کہ دارفور میں افریقی یونین کی بجائے اقوام متحدہ کے دستوں کا عمل دخل بڑھایا جائے۔
دارفور میں تین سالوں سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دارفور پر ایک ’اصولی‘ معاہدہ طے پا گیا ہے، لیکن سوڈانی حکومت نے اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دارفور کے بحران پر مذاکرات ایتھوپیا کے دارالحکومت میں ہوئے۔
مشرقی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم مائینٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے حکام ابھی بھی اصرار کر رہے ہیں کہ دارفور میں امن دستوں کی قیادت انہوں نے سنبھال لی ہے۔ لیکن صدر بشیر نے زور دے کر کہا ہے ’اقوام متحدہ افریقی یونین کی مدد کرے گی‘۔