Thursday, 16 November, 2006, 03:47 GMT 08:47 PST
امریکی فوج کے ایک سینئر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں آنے والے دنوں میں تشدد کے واقعات اضافہ ہو گا اور صورت حال بگڑتی چلی جائے گی۔
وزارت دفاع کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل مائیکل میپلز نے کانگرس میں ایک سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں نے شدید نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان مزاحمت کارروں نے اپنی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی بہتر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پشتوں آبادی میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھایا ہے۔
سماعت کے دوران انہوں نے کابل میں قائم کرزائی حکومت کی مدد کی بھی سفارش کی ہے کیونکہ ان کے مطابق کرزائی حکومت اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
دریں اثنا افغانستان میں پوست کی کاشت کے بارے میں ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے پوست کی کاشت اور منشیات کی اسمگلنگ سے کابل کی حکومت کو خطرہ ہے۔
![]() | |
| طالبان کی حکومت میں پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی گئی تھی |
افغانستان پوست پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونا والا پیسہ مزاحمت کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس رپورٹ کے مطاق اس سال پوست کی کاشت میں پچاس فیصہ اضافہ ہوا ہے۔