Thursday, 16 November, 2006, 12:02 GMT 17:02 PST
عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلحہ حملہ آوروں نے ایک بیکری پر حملے کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق بغداد میں زایونہ کے قریبی علاقے میں موجود بیکری پر حملہ کرکے انتہا پسندوں نے وہاں پر آئے خریداروں اور موجود کارکنوں پر فائرنگ کی۔
بغداد میں بیکریوں کی بڑی تعداد شعیہ اکثریت کے زیرِ انتظام ہیں اور سنی انتہا پسند اکثر و بیشتر ان کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
درین اثنا عراق کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے بتایا ہے کہ منگل کو وزارت تعلیم کی عمارت سے اغوا کیے جانے والوں کو اغوا کاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور میں سے کچھ کو قتل بھی کر دیا گیا ہے۔
عبد دیہاب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ اغوا کاروں نے جن لوگوں کو رہا کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ کچھ مغویوں کو قتل کر دیا گیا ہے جب کہ باقی افراد پر تشدد کیا جا رہا ہے‘۔
جبکہ عراق کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے چالس مغویوں کے گروپ میں سے اب صرف پانچ افراد قید میں ہیں۔
عبد دیہاب نے کہا ہے کہ جب تک باقی مغویوں کو رہا نہیں کیا جاتا وہ حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔
تشدد کے ایک اور واقعے میں بغداد کے دو مختلف مقامات پر دھماکوں سے کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں ان کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان فوجیوں میں سے دو کی ہلاکت بدھ کو امل میں سڑک کے کنارے رکھے گئے ایک بم سے ہوئی جبکہ ایک اور فوجی جنوب مشرقی صوبے دیلیالا میں ایکشن کے دوران مارا گیا ہے۔ چوتھے فوجی کی ہلاکت منگل کو بغداد میں آپریشن کے دوران ہوئی تھی۔