Wednesday, 15 November, 2006, 02:57 GMT 07:57 PST
جنوبی افریقہ کی پارلیمان نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دینے کے لیے ایک قانون کی منظوری دے دی ہے۔
ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قراد دینے کے بارے میں متنازعہ قانون پر پارلیمان میں رائے شماری کے دوران اس کے حق میں دو سو تیس جبکہ اس کے خلاف اکتالیس ووٹ ڈالے گئے۔
ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے بارے میں یہ قانون آئینی عدالت کی گزشتہ سال دی جانے والی اس رولنگ کے بعد پارلیمان میں پیش کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ آئین ہم جنس پرستوں سے امتیاز برتا ہے۔
جنوبی افریقہ کی حکمران افریقن نیشنل کانگرس نے اپنے تمام منتخب نمائندوں سے کہا تھا کہ وہ اس قانون پر رائے شماری کے وقت پارلیمان میں موجود رہیں۔ مذہبی حلقے اور چرچ اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں اس قانون کے منظور کیے جانے سے پہلے شادی صرف عورت اور مرد کے ملاپ کو ہی تصور کیا جاتا تھا۔
اس قانون پر رائے شماری سے قبل داخلہ امور کی وزیر نوزی ماپیسا نقاکولا نے کہا ’ماضی سے چٹکارا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کے تعصب اور معاشرتی اور سماجی امتیاز سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔‘
تاہم جنوبی افریقہ کے کیتھولک چرچ کے صدر کارڈینل ولفرڈ نیپئر نے کہا کہ اس قانون کا منظور کیا جانا جمہوریت کے لیے ایک دھچکا ہے۔
انہوں نے جنوبی افریقہ کے ایک اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس قانون کے خلاف ہے۔
افریقی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ریورینڈ کینتھ نے کہا کہ پارلیمان کے جو ارکان اس قانون کے حق میں ووٹ دیں گے انہیں قدرت کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم کچھ ہم جنس پرستوں کے سرگرم کارکنوں نے بھی اس قانون کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت حکام کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ان کے مذہبی عقائد، ضمیر اور ایمان اس بات کی اجازت نہ دے تو وہ ہم جنسوں کی شادیوں کی تقریبات میں شریک نہ ہوں۔
ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دینا افریقہ میں ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ افریقی معاشرے میں ہم جنس پرستی کو بہت معیوب تصور کیا جاتا ہے۔