Wednesday, 15 November, 2006, 13:27 GMT 18:27 PST
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جنوب مشرقی ایشیا کے دورے پر جاتے ہوئے مختصر وقت کے لیے ماسکو رکے ہیں جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمر پیوتن کے ساتھ ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت کی۔
ملاقات کے بعد روسی حکومت کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر نے تجارت کے عالمی ادارے ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ کا رکن بننے کی روس کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق صدر پیوتن اور صدر بش کی ملاقات کے دوران ایٹمی عدم پھیلاؤ اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔
یاد رہے کہ صدر پیوتن نے گذشتہ ہفتے نیوکلیئر مسئلے پر ایران کے چوٹی کے مذاکرات کار سے ملاقات کی تھی۔
وسط مدتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کی شکست اور نتیجاً کانگریس پر کنٹرول کھونے کے بعد صدر بش کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ تـجزیہ کاروں کے مطابق صدر بش کے اس دورے سے اندازہ ہوگا کہ دنیا کے باقی رہنماء اب (انتخابات میں شکست کے بعد) ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں؟
صدر پیوتن سے ملاقات کے بعد صدر بش سنگاپور اور پھر ’ایشیا پیسیفک سمٹ‘ کے لیے ویتنام روانہ ہو جائیں گے، جہاں ان کی توجہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام اور ایشیائی ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں کے لیے ہونے والے مذاکرات پر رہے گی۔