Tuesday, 14 November, 2006, 15:25 GMT 20:25 PST
سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے قریب ہی ایک بڑے رہائشی منصوبے نے اس مقام کے تقدس کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے جِس میں ’دو سو پانچ ملین پاؤنڈ‘ کی مالیت سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کے حق اور مخالفت میں دلائل دیے جا رہے ہیں۔
بن لادن گروپ کی طرف سے تعمیر ہونے والے زم زم ٹاور نامی اس منصوبے میں شاپنگ سنٹر، ریستوران، اور کا پارک بھی شامل ہیں۔
منصوبے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس طرح کی عمارت کا کاروباری پہلو حج کی روح کے منافی ہے جس کی بنیاد سادگی، مساوات اور خلوص پر ہے۔
اخبار کے مطابق سعودی عرب میں مؤرخ اور اسلامی ورثہ فاؤنڈیشن کے ایک بانی عرفان احمد نے کہا کہ ’ایسا منصوبہ ایک مقدس شہر کا تجارتی مقاصد کے لیے استحصال ہے‘۔ ’زم زم میں غیر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ حج کے وقت کسی کو شاپنگ سنٹر یا رستوران کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سنگِ مر مر کے فرش پر چلنے سے نہ حج کے درجات بلند ہوتے ہیں نہ ہی کوئی بہتر مسلمان ہو سکتا ہے۔ منافع کا تصور ہی تکلیف دہ ہے۔ تیس سال قبل ایسی توہین یا بے حرمتی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا‘۔
خبر کےمطابق منصوبے میں ایک تینتیس مربع میٹر والے ایسے سٹوڈیو کا کرایہ سستے ایّام میں تین ہزار چھ سو پاؤنڈ ہے جہاں سے شہر نظر آتا ہے۔ جس سٹوڈیو سے خانہ کعبہ نظر آتا ہے اس کا کرایہ حج کے مہینے میں ساڑھے ترانوے ہزار پاؤنڈ ہوگا۔
گارڈین کے مطابق مکمل ہونے کے بعد یہ سعودی عرب کی بلند ترین ہوگی اور اس کا شمار دنیا کی بلند عمارتوں میں ہوگا۔
اخبار نے ریاض کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے حوالے سے بتایا کہ مکہ جائداد کی خرید و فروخت کا مرکز بن چکا ہے جہاں پرگزشتہ تیس سال میں ستاون ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری ہوئی اور جہاں پر ایک مربع میٹر کی قیمت پچاس ہزار پاؤنڈ ہو سکتی ہے جو کہ مینہیٹن یا مے فیئر سے زیادہ ہے۔
خبر میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت خانہ کعبہ کے قریب بارہ سو چالیس پر تعیش کمرے ٹائم شیئر کے تحت یورپ اور برطانیہ کے مسلمانوں کو فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ کمرے فروخت کرنے والی کمپنی کے سربراہ طلعت محمود ملک کے مطابق ہر کمرے سے سالانہ دس سے لے کر پندرہ فیصد تک آمدنی حاصل کی جا سکے گی۔ ’غیر مسلموں کو مکہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں ہوگی کیونکہ وہاں صرف عبادت ہوتی ہے اور ویسے بھی غیر مسلم وہاں نہیں جا سکتے‘۔
خبر کے مطابق طلعت محمود ملک نے کہا کہ ٹائم شیئر کا تصور مسلمانوں کے لیے نیا ہے اس لیے کاروبار شروع میں سُست رہا لیکن رمضان میں اس میں تیزی آئی۔ ’ہمیں نوجوانوں کی اس منصوبے میں دلچسپی سے حیرت ہوئی تاہم زیادہ خریداری بڑی عمر کے لوگوں نے کی جو وہاں ریٹائر ہونا چاہتے ہیں‘۔
ورثہ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر عرفان کہتے ہیں کہ مکہ میں اس ’گولڈ رش‘کی قیمت تاریخی عمارات کی صورت میں ادا ہوئی ہے۔ ’مکہ میں چودہ سو سال پرانی پیغمبر اسلام کے زمانے سے تعلق رکھنے والی عمارات کی تعداد اب بیس سے بھی کم ہے۔
ڈاکٹر احمد نے گارڈین کو بتایا کہ افسوس کی بات یہ ہے جیسے جیسے مکہ زیادہ کمرشلائز ہوگا اس کا روحانی تشخص کم ہو جائے گا اور مجھے مسلمان شکایت کرتے ہوئے سنائی نہیں دے رہے‘۔