Tuesday, 14 November, 2006, 05:51 GMT 10:51 PST
ایک اور وزیر کے مستعفی ہونے کے باوجود لبنانی کابینہ نے حریری قتل کے لیے اقوام متحدہ کے اس ٹریبونل کی توثیق کر دی ہے جو ملزان کے خلاف الزامات کی سماعت کرے گا۔
کابینہ کے فیصلے کے اعلان سے قبل ایک اور وزیر نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ مستعفی ہونے والے وزرا کی تعداد اب چھ ہو گئی ہے۔
مستعفی ہونے والے ان وزرا کا تعلق حزب اللہ سے ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس استعفوں کا تعلق ٹریبونل کی توثیق رکوانے سے ہے لیکن حزب اللہ نے اس کی تردید کی ہے۔
استعفے حکومت میں زیادہ اختیارات حاصل کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔
گزشتہ لبنانی صدر امیل لحود نے کہاتھا کہ وزراء کے مسلسل استعفوں کے بعد کابینہ کا اجلاس غیر آئینی ہو گا اور یہ بھی کہ حکومت اپنے وجود کا استحقاق کھو بیٹھی ہے۔
حزب اللہ کے ایک مستعفی وزیر محمد جواد خلیفہ نے ان استعفوں کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’موجودہ کابینہ لبنان کی سیاسی منظر نامہ پر ظاہر ہونے والی تبدیلیوں کی عکاس نہیں ہے‘۔
اس سال اگست میں بھی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے لبنان کی کابینہ کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی جس میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا معاملہ زیر بحث آنا تھا۔
حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔